امریکہ کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے: سابق ایرانی سفیر

تہران، 5 مئی، ارنا – عمان میں ایران کے سابق سفیر نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کو بلیک میل نہیں دے گا اور اپنی تمام طاقت کیساتھ قومی مفادات اور قانونی حقوق کا دفاع کرے گا.

یہ بات 'حسین نوش آبادی' ہفتہ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے ایران اور جوہری معاہدے کے درمیان جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے کہا کہ اس ایٹمی معاہدے سےعلیحدگی امریکہ کےعلاقائی اور یورپی اتحادیوں کے لیے بہت سخت نقصان دہ ہوجائے گی.

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ممکنہ علیحدگی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور 1996 کو بین الاقوامی معاہدوں پر ويانا کے کنونشن کو نظرانداز کرنا ہے اور اس اقدام سے امریکہ دنیا میں تنہا ہوجائے گا.

ایرانی سابق سفیر نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف ناجائز صہیونی ریاست کے وزیر اعظم کے بے بنیاد بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے من گھڑت دعوے ایسے وقت سامنے آرہے ہیں جبکہ قائد اسلامی انقلاب نے ایک تاریخی فتوے کے تحت جوہری ھتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے.

انہوں نے مزید بتایا کہ نیتن یاہو کا یہ بے اساس دعوی جوہری معاہدے کے شعبے میں صہیونی اور امریکہ کے باہمی اتحاد اور یکجہتی کی نشاندہی کرتا ہے.

تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اس لئے مقرر کی ہے تا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی.

9410٭272٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@