غیرملکی کمپنیاں ایرانی صوبے سیستان میں سرمایہ کاری کے لئے بے تاب

زاہدان، 5 مئی، ارنا – پاکستانی سرحد سے ملحقہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بے انتہا مواقع کو دیکھتے ہوئے مختلف غیرملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لئے بے تاب ہیں.

سرکاری رپورٹس کے مطابق، سیستان و بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے اب تک 15 غیرملکی کمپنیوں کو این او اسی جاری کردئے گئے ہیں جن کی سرمایہ کاری کی لاگت 1.260 ارب ڈالر بتائی جارہی ہے. اسی حوالے سے سیستان صوبہ غیرملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لحاظ سے قومی سطح پر تیسرا بڑا صوبہ ہے.

صوبائی گورنر جنرل آفس کی ڈائریکٹر جنرل برائے امور سرمایہ کاری 'ماندانا زنگنہ' کے مطابق، اس وقت سیستان و بلوچستان صوبے میں جنوبی کوریا، افغانستان، جرمنی، اٹلی، ترکی، بھارت اور چین کی سرمایہ کار کمپنیاں سرگرم عمل ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد غیرملکی سرمایہ کاروں اس صوبے میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کر رہے ہیں جس سے چینی سرمایہ کاروں اس علاقے میں سرمایہ کاری کے لئے پرعزم ہیں.

خاتون ایرانی عہدیدار نے چینی تیل اور پیٹروکیمیکل صنعت کی فیڈریشن کے سربراہ کی جانب سے چابہار کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چابہار بندرگاہ غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک پرامن جگہ ہے اور بندرگاہیں، فری زون علاقے، پیٹروکیمیکل اور دوسری صنعتوں اس کی ترقی کی مدد کرسکتی ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاروں پہلی بار کے لئے ایرانشہر میں گیس کمپریسر پلانٹ کی تعمیر کے لئے 8 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے ذریعہ بڑی تعداد میں افراد کے لئے روزگار کے مواقع فراہم ہوجائے گا.

تفصیلات کے مطابق، صوبے سیستان و بلوچستان پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ زمینی سرحد اور بحیرہ عمان، بحر ہند، خلیج فارس اور افریقی ممالک کے درمیان مشترکہ پانی کی سرحدیں موجود ہیں.

اس صوبے میں چابہار بندرگاہ اپنی اسٹریٹجک پوزیشن اور عالمی پانیوں کی تک رسائی کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان تبادلوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے.

چابہار بندرگاہ اپنی سیاسی اور اسٹریٹجک پوزیشن کے ساتھ علاقائی بحران اور جنگ کے دوران تعمیری کردار ادا کرسکتی ہے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@