ایران سے متعلق عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کاری نظام میں تبدیلی قبول نہیں: روس

ماسکو، 5 مئی، ارنا - روسی حکومت نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاری اور ضمانتی اقدامات میں کسی قسم کی تبدیلی یا تجدید کی مخالفت کی ہے.

یہ بات روسی دفتر کی ترجمان 'ماریا زاخارووا' نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف صہیونی وزیراعظم کے حالیہ الزامت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نزدیک ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایران میں جوہری سرگرمیوں سے متعلق عالمی ادارے کی معائنہ کاری کے نظام میں تبدیلی قابل قبول نہیں.

انہوں نے بتایا کہ ایران سے متعلق عالمی جوہری ادارے کی معائنہ کاری تعمیری اور قابل اطمینان ہے تاہم روس، میڈیا میں قیاس آرائیوں اور منحرف رپورٹس کے ذریعے اس عمل میں دخل اندازی کو تسلیم نہیں کرتا.

روسی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق تمام مسائل کو صرف عالمی جوہری ادارے کے منشور اور جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں حل کیا جاسکتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ روس جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم رہے گا اور یہ سلسلہ جب تک دوسرے فریق بھی اپنے وعدوں پر قائم رہیں تب تک جاری رہے گا.

یاد رہے کہ صہیونی وزیراعظم نے گزشتہ دنوں نام نہاد 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی تھیں جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی.

نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے ہزاروں ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دنیا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ اس نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے 10 دنوں تک ایران جوہری معاہدے پر نئے سرے سے فیصلہ کرنا ہے جبکہ نیتن یاہو نے یہ کوشش کی ہے کہ اسی 10 دن کے اندر امریکی صدر کے ممکنہ فیصلے پر اثرانداز ہو تا کہ وہ ایسی جھوٹی کہانہوں کی بنا پر ایران جوہری معاہدے کو ختم کروادے.

نیتن یاہو کے من گھڑت دعوے ایسے وقت سامنے آرہے ہیں جبکہ قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای جو اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے اعلی رہنما ہیں نے ایک تاریخی فتوے کے تحت جوہری ھتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے.

اسلامی جمہوریہ ایران کے پُرامن جوہری پروگرام بالکل شفاف اور مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس بالخصوص عالمی جوہری توانائی ادارے (IAEA) نے بھی بارہا ایران کے پُرامن کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@