برطانوی حکومت کا ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ

تہران، 4 مئی، ارنا - برطانوی حکومت کے ترجمان نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹریزا مے بھی اس معاہدے کا تسلسل جاری رکھنے کی خواہاں ہیں.

یہ بات حکومتی ترجمان برائے امور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ 'ایڈون سمیول' نے المیادین نیوز چینل کو انٹریو دیتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صہیونی وزیراعظم کے حالیہ بیانات پر برطانوی مؤقف واضح ہے، ہم ایران جوہری معاہدے اور اس متعلق عالمی معائنہ کار اور نگران اداروں کی حمایت کرتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی خطے، خلیج فارس کے ممالک بالخصوص برطانیہ کے فائدے میں نہیں ہے. اس معاہدے کا خاتمہ نہ ہمیں، نہ امریکہ اور نہ ہی ایران کے لئے فائدہ مند ہوگا.
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ آج مشرق وسطی اور افریقی خطہ شدید مشکلات کا شکار ہیں تاہم ایران جوہری معاہدے سے ان علاقوں میں اسلحہ کی دوڑ کو روکنے میں مدد ملے گی.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے میں شامل تمام فریقن سے مطالبہ کیا کہ اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کریں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی.
صدر ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اس لئے مقرر کی ہے تا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**