جوہری معاہدے کی خلاف ورزی پر ردعمل دینا ایران کا جائز حق ہے: امریکی پروفیسر

نیو یارک، 4 مئی، ارنا - امریکی ماہور امور جوہری کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کر کے جوہری معاہدے سے متعلق امریکی خلاف ورزیوں کا موثر جواب دے سکتا ہے.

ان خیالات کا اظہار میسا چوسٹس یونیورسٹی کی سیکورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے سنئیر ریسرچ فیلو 'جیمز والش' نے ارنا کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا.
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے میں شامل کسی بھی فریق کی طرف سے اس کی خلاف وزری کا جواب دینا اسلامی جمہوریہ ایران کا جائز حق ہے اور اس حوالے سے ایران، امریکی وعدہ خلافی کا موثر انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے منفی نتائج پر انتباہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس عمل سے امریکہ نقصان پہنچے گا اور مزید برآں امریکہ دنیا میں تنہائی کا شکار بھی ہوگا.
امریکی پروفیسر کا کہنا تھا کہ ایران کے آئندہ جوابی ردعمل کے لئے انتظار کرنا ہوگا تاہم ایران کے ردعمل سے وہ چین اور روس بالخصوص یورپ کے مزید قریب ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے کو توڑے تو ایران بحیثیت خودمختار ریاست اس عمل سے متعلق جو خود مناسب سمجھے ردعمل دے سکتا ہے.
ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے ناجائز صہیونی ریاست کے عزائم پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے جیمز والش نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اسرائیل کس طرح جوہری معاہدے کے خاتمے اور نئے جنگ کا خیرمقدم کرتا ہے اسی لئے صہیونیوں سے خبردار رہنا ہوگا تا کہ وہ کسی بھی بہانے سے امریکہ کی جانب سے جارحیت کرنے پر اتر آئیں.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے حوالےسے یورپی ممالک بالخصوص روس اور چین کے کردار کو اہم قرار دیا اور مزید کہا کہ تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور برطانیہ جوہری معاہدے کا تسلسل جاری رکھنے کے حامی ہیں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی.
صدر ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اس لئے مقرر کی ہے تا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@