ایران جوہری معاہدے پر عمل کرنا امریکہ کا آخری چارہ ہے: ظریف

تہران، 4 مئی، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ اس کے پاس ایران جوہری معاہدے پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور یہی ایران کا واضح پیغام ہے جس پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا.

'محمد جواد ظریف' نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں جسے ٹوئٹر پر نشر کیا گیا تھا، میں مزید کہا کہ ہمارے سامنے صرف ایک راستہ ہے اور وہ جوہری معاہدے پر امریکی عمل درآمد ہے.
انہوں نے کہا کہ 2015 میں یورپی ممالک اور امریکہ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد جوہری معاہدے پر پہنچ گئے. اس کے تحت اتفاق کیا گیا کہ موجودہ خدشات جو زیادہ تر امریکی طرف سے ظاہر کئے گئے تھے، کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں،اس کے بدلے میں امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ ایران مخالف پابندیوں کے خاتمے کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹوں کو بھی اٹھالیا جائے گا.
ظریف نے مزید کہا کہ اسلامی کونسل کی جانب سے جوہری معاہدے کی توثیق کے بعد عالمی جوہری ادارہ بھی اب تک 11 مرتبہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے مگر امریکہ اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسروں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت نہ کریں.
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے خلاف امریکی شوشا اور واویلا سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس معاہدے میں نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے.
محمد جواد ظریف نے امریکہ کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر فوری طور پر عمل کرے دوسری صورت میں امریکہ اور صرف امریکہ ہی اس کے خطرناک نتائج کا ذمے دار ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@