ٹرمپ کی علیحدگی، جوہری معاہدے سے پہلی جیسی صورتحال سامنے آئے گی: ایرانی سفیر

لندن، 3 مئی، ارنا - برطانیہ میں تعینات ایران کے سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر جوہری معاہدے سے نکل جائے تو ایران بھی اس معاہدے میں شامل نہیں رہے گا لہذا جوہری معاہدے سے پہلی جیسی صورتحال واپس آنے کا امکان ہے.

'حمید بعیدی نژاد' نے گزشتہ روز 'سی این این' چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی کے بعد ایسا کوئی معاہدہ نہیں رہے گا جس پر ایران پابند رہے لہذا توقع کی جاتی ہے کہ جوہری معاہدے سے پہلی کی صورتحال کا سامنا کریں.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے خاتمے کی صورت میں ایران کے پاس مختلف آپشنز ہیں ان میں سے ایک جوہری معاہدے کی اس شق پر عمل کرنا ہے جس کا تعلق خلاف ورزی کرنے والے فریق کو کس طرح جواب دینا ہے.

ایرانی سفیر نے کہا کہ حکومت نے تمام صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور اس مقصد کے لئے صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی تمام متعلقہ اداروں کو ضروری احکامات جاری کردئے ہیں جن پر مناسب وقت میں عمل کیا جائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی علیحدگی کے بعد ہم جوہری معاہدے سے پہلی کی صورتحال میں داخل ہوں گے جس کے تحت ایران پھر سے یورنیم کی افزودگی کے عمل کا آغاز کرے گا.

حمید بعیدی نژاد نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ طویل مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے تاہم وائٹ ہاؤس سے مثبت اور تعمیری پیغامات نہیں مل رہے بلکہ امریکہ آئے روز اس معاہدے کے خلاف منفی رویہ اپنا رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے کو بچانے کے لئے تعمیری کوششیں کررہے ہیں. ہم امریکہ کو اس معاہدے میں شامل رکھنے سے متعلق یورپی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کے طریقہ کار سے اتفاق نہیں کرتے.

ایرانی سفیر نے یورپ پر زور دیا کہ وہ امریکہ سے متعلق نرمی نہ برتے اور نہ ہی اسے پوائنٹ اسکورنگ کرنے دے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@