امریکی علیحدگی سے ہماری جوہری سرگرمیاں مزید تیز ہوں گی: رکن ایرانی مجلس

تہران، 2 مئی، ارنا - ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے سے نکل جائے تو ایران بھی جوہری سرگرمیوں میں بھرپور طاقت کے ساتھ اضافہ کرے گا.

یہ بات پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن 'ابوالفضل حسن بیگی' نے بدھ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی سے ایران کی جوہری سرگرمیوں میں خاطرخواہ تیزی آئے گی.
رکن ایرانی پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صہیونی لابی کے دباؤ میں آکر جوہری معاہدے سے نکلنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ امریکی عوام اس کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود امریکہ، صہیونیوں اور سعودیوں کو خوش کرنے کے لئے جارحانہ فیصلہ کرنے پر مصر ہے.
مشرقی وسطی میں امریکہ کی شرمناک شکست کا ذکر کرتے ہوئے حسن بیگی نے کہا کہ آج اسرائیل سعودی عرب اور بحرین میں صرف امریکی چرچا ہے، مشرق وسطی اور مغربی ایشیا میں امریکہ کے 15 اڈے ہیں مگر یہ فوجی اڈے صرف امریکی فورسز کے لئے جیل بنے ہوئے ہیں.
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے تین امکانات ہیں پہلا یہ کہ امریکہ اس سے نکل جائے گا مگر یورپی ممالک اس پر قائم رہیں گے، دوسرا امکان یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ مشترکہ طور پر اس سے نکل جائیں جس سے ان میں یہ تشویش پیدا ہوگی کہ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگی اور تیسرا امکان یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے میں شامل رہے گا مگر وہ ایران کے خلاف مشتعل اقدامات اور اعصابی جنگ کا سلسلہ جاری رکھے گا.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی جوہری ادارے نے بارہا ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے اور کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے.
اگر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی.
صدر ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اس لئے مقرر کی ہے تا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@