عالمی ادارے کے پاس ہماری جوہری سرگرمیاں پُرامن نہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں: ایرانی سفیر

لندن، 2 مئی، ارنا - برطانیہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے پاس ایران کی جوہری سرگرمیاں پُرامن نہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے.

'حمید بعیدی نژاد' نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ عالمی جوہری ادارے کو ایران مخالف صہیونی وزیراعظم کے الزامات کا علم تھا اور 10 سال تحقیق و معائنہ کاری کے بعد بھی ایسی کوئی نشانی سامنے نہیں آئی جس سے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو باعث تشویش قرار دیا جاسکے.

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ عالمی ادارے نے اسی شفاف تحقیقات کی بنا پر 2015 میں ایک رپورٹ شائع کی جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کیس کو بند کردیا گیا.

یاد رہے کہ صہیونی وزیراعظم نے گزشتہ دنوں نام نہاد 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی تھیں جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی.

نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے ہزاروں ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دنیا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ اس نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے 10 دنوں تک ایران جوہری معاہدے پر نئے سرے سے فیصلہ کرنا ہے جبکہ نیتن یاہو نے یہ کوشش کی ہے کہ اسی 10 دن کے اندر امریکی صدر کے ممکنہ فیصلے پر اثرانداز ہو تا کہ وہ ایسی جھوٹی کہانہوں کی بنا پر ایران جوہری معاہدے کو ختم کروادے.

نیتن یاہو کے من گھڑت دعوے ایسے وقت سامنے آرہے ہیں جبکہ قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای جو اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے اعلی رہنما ہیں نے ایک تاریخی فتوے کے تحت جوہری ھتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے.

اسلامی جمہوریہ ایران کے پُرامن جوہری پروگرام بالکل شفاف اور مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس بالخصوص عالمی جوہری توانائی ادارے (IAEA) نے بھی بارہا ایران کے پُرامن کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@