ایران جوہری معاہدہ سفارتی کوشش کی مثال ہے: صدر اقوام متحدہ

نیو یارک، 2 مئی، ارنا - اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر 'میروسلف لاچکاک' نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ پُرامن مذاکرات، کامیاب سفارتکاری اور ثالثی عمل کی روشن مثال ہے.

یہ بات اقوام متحدہ کی 72ویں جنرل اسمبلی کے صدر کے ترجمان 'برینڈن ورما' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے جنرل اسمبلی کے صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میروسلف لاچکاک ایران جوہری معاہدے کا تسلسل جاری رکھنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں.

ترجمان کے مطابق، اقوام متحدہ کی 72ویں جنرل اسمبلی کے صدر جوہری معاہدے کے تمام نکات سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے اس معاہدے میں شامل تمام فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آپس میں مل کر مشترکہ خدشات اور مسائل کا حل نکالیں.

ایران نے جولائی 2015 میں چھ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد جوہری معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ختم ہوں گی.

صہیونی وزیراعظم نے گزشتہ دن نام نہاد 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی ہیں جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی.

نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ہزاروں ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دنیا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ اس نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے 10 دنوں تک ایران جوہری معاہدے پر نئے سرے سے فیصلہ کرنا ہے جبکہ نیتن یاہو نے یہ کوشش کی ہے کہ اسی 10 دن کے اندر امریکی صدر کے ممکنہ فیصلے پر اثرانداز ہو تا کہ وہ ایسی جھوٹی کہانہوں کی بنا پر ایران جوہری معاہدے کو ختم کروادے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@