ایران مخالف سی آئی اے چیف کا بیان جنگ کی آگ بھڑکا رہا ہے: امریکی پروفیسر

نیو یارک، 31 جنوری، ارنا - امریکی ریاست کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے امریکی خفیہ ایجنسی کے چیف کے ایران کو خطے کے لئے خطرہ قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان کا مقصد جنگ کی آگ کو بھڑکانا ہے.

ان خیالات کا اظہار سان برنارڈینو میں کیلیفورنیا کی اسٹیٹ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر 'ڈیوڈ یعقوبیان' نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے امریکی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کی بی بی سی کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور ایران مخالف بیانات کے ردعمل میں کہا کہ ان باتوں سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ صہیونیوں کے مفادات ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہودی اور صہیونی لابیوں کے مفادات کے سوا کسی اور چیز کے لئے نہیں سوچتے.

انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے خلاف سی آئی اے چیف کے دھمکی آمیز بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور حزب اللہ جتنا بھی داعش کے خلاف لڑیں مگر امریکہ اور اس کا میڈیا ہرگز اس کا ذکر تک نہیں کریں گے.

امریکی پروفیسر نے کہا کہ سی آئی اے چیف کے بیانات میں تضاد ہے. امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ بالخصوص سعودی عرب اور صہیونیوں کے مفادات کی فکر کرتا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سعودیوں اور صہیونیوں کی حمایت کرنے کا اصل مقصد خطے کے دیگر ممالک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانا ہے جس سے وہ ممالک اتنا کمزور ہوجائیں گے کہ اقتصادی اور عسکری خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کھو دیں گے.

پروفیسر ڈیوڈ یعقوبیان نے مزید کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے بیانات کا مقصد خطے میں نئی کشیدگی اور ایران کو جنگ کی آگ میں جھونکنا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب سالوں سال سے ایران پر فوجی دراندازی کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں. سی آئی اے چیف کے حالیہ بیان سعودی ولیعہد کی اس بات کی توثیق کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ہم خطے کی جنگ کو ایران تک محدود کرنا چاہتے ہیں.

امریکی پروفیسر نے کہا کہ شام اور عراق میں بحران اور بدامنی کی صورتحال برقرار رکھنے سے صہیونیوں کو فائدہ ملے گا. صہوینیوں کے بیانات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شام میں موجودہ حکومت کے بجائے داعش کو طاقت دینے کے حامی ہیں.

انہوں نے امریکی مندوب کی جانب سے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے ایرانی میزائل کے ٹکڑوں کو دیکھانے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران مخالف شواہد کو سعودی عرب نے امریکہ کے لئے فراہم کیا ہے.

امریکی پروفیسر نے کہا کہ سابق امریکی وزیر خارجہ کولین پاول بھی عراق میں مہلک ھتھیاروں کے حوالے سے جھوٹے شواہد دیکھاتے تھے اور ہم اب ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف شواہد کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@