چابہار اور گوادر کی بندرگاہ پاک ایران اقتصادی خوشحالی کیلئے اہم قرار

چابہار، 31 جنوری، ارنا - ایران کے چابہار فری زون علاقے میں تعینات دفترخارجہ کے سنیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ خطے میں اقتصادی تعاون بالخصوص ایران و پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لئے چابہار اور گوادر بندرگاہوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے.

یہ بات 'حمید رضا طوسی' نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ چابہار اور گوادر ایک دوسرے سر منسلک بندرگاہیں ہیں اور ان کا ایران اور پاکستان کی اقتصادی خوشحالی کے لئے اہم کردار حاصل ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پاک ایران قیادت کی مشترکہ خواہش ہے اور دونوں برادر اور ہمسایہ ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں بھی اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے.

گوادر اور چابہار کے درمیان سسٹرز پورٹس معاہدے کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی سفارتکار نے مزید کہا کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے سمندری حکام اور چابہار فری زون انتظامیہ کے ساتھ اس معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا.

انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کی موجودگی میں گزشتہ دنوں گوادر بندرگاہ کے دوسرے فیز کے افتتاح کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اس تقریب میں چابہار فری زون کے ٹرانسپورٹیشن شعبے کے ڈپٹی چیئرمین اور سیستان و بلوچستان کی پورٹس اتھارٹی کے نائب سربراہ برائے امور اقتصادی شریک تھے.

حمید رضا طوسی نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی ساحلی پٹی 60 کلومیٹر پر مشتمل ہے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے.

انہوں نے کہا کہ گوادر، ایران کے سرحدی علاقے ریمدان کے صرف 90 کلومیٹر فاصلے کی دوری پر ہے لہذا اس جغرافیائی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں ساحلی علاقوں کی ترقی کے لئے سنہری مواقع میسر ہیں.

انہوں نے کہا کہ چابہار کے علاقے میں بندرگارہ اور فری زون کی موجودگی سے ایران میں ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے اہمیت رکھتی ہے.

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ 85 لاکھ ٹن مصنوعات کی گنجائش رکھتی ہے اور اس لحاظ سے وسطی ایشیائی ریاستوں کی مصنوعات کی نقل و حمل کے لئے یہ ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@