بہانہ بازی کی وجہ سے سوچی اجلاس تاخیر کا شکار ہوا: ایرانی نمائندہ

سوچی، 31 جنوری، ارنا - روسی شہر سوچی میں شام کی قومی مذاکرات کانگریس میں شریک اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ بعض فریقین نے شام کے قومی پرچم کا بہانہ بنا کر اس پر اعتراضات کئے جس کی وجہ سے اس اجلاس دو گھنٹے کے تاخیر سے آغاز ہوا.

'حسین جابری انصاری' نے سوچی میں ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےمزید کہا کہ آستانہ عمل میں بھی ایسی بہانہ بازی دیکھنے کو ملی لہذا ہم ان مسائل کو نیا نہیں سمجھتے.

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بعض شامی فریق ایسے ہتکنڈوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تاہم مذاکرات کی میزبان ملک ایسے مطالبات پر عمل نہیں کرسکتا.

جابری انصاری نے کہا کہ ایسے عناصر مذاکراتی اجلاس کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں جن کا مقصد اپنے مطالبات کو زبردستی منوانا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ کسی ملک کے حوالے سے مذاکراتی کانفرنس کے دوران اس کے قومی پرچم کی موجودگی ایک معمول کی بات ہے. بعض فریقین نے روس کی جانب سے شامی پرچم کو دیکھانے کا بہانہ بنایا جبکہ شامی پرچم کو ہٹانا ناممکن ہے.

جابری انصاری نے کہا کہ سوچی کانفرنس شام میں قیام امن کے لئے اہمیت کی حامل ہے. اس کانفرنس کے اختتام کے بعد بعض کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جن کا مقصد جنگ بندی کے نفاز، امن کے فروغ اور قومی مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز روسی شہر سوچی میں منعقدہ شام کی قومی مذاکرات کانگریس میں ایران، روس اور ترکی کے علاوہ اقوام متحدہ کے ایلچی کے علاوہ شامی فریقین پر مشتمل 1600 افراد شرکت تھے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@