ایران، روس اور ترکی، شام کی آئینی کمیٹی میں شامل ہیں: اقوام متحدہ

نیو یارک، 31 جنوری، ارنا - اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے امور شام نے کہا ہے کہ شام میں آئینی کمیٹی میں اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے نمائندے موجود ہوں گے.

یہ بات 'سٹیفن دی مستورا' نے روسی شہر 'سوچی' سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں موجود صحافیوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے سوچی میں منعقدہ شام کی قومی مذاکرات کانگریس میں جنیوا عمل کو آگے بڑھانے کے لئے 12 تجاویز پیش کیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا اصل مقصد سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کا نفاذ ہے اور اس حوالے سے شام امن عمل کی جگہ نیا منصوبہ یا مسابقتی تجویز لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.

سٹیفن دی مستورا نے کہا کہ شام میں آئینی امور پر بنائی کمیٹی کی جانب سے جنیوا عمل کی توثیق ہوگئی ہے لہذا تمام فریقین کو جنیوا عمل کے تحت آگے بڑھانا ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ شام کی آئینی کمیٹی میں رکنیت کے لئے ایران، روس اور ترکی کے نمائندوں پر غور کیا جائے گا.

نمائندہ اقوام متحدہ نے کہا کہ آئینی کمیٹی کی تشکیل میں حکومت، مخالفین اور دیگر گروہوں کے ساتھ برابری کے تحت کام کیا جائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت کو منانے اور ان کے تعاون کو حاصل کرنے کے حوالے سے ایران، روس اور ترکی کے اثر و رسوخ اہم ہے. تینوں ممالک کے نمائندوں کے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شام امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے.

اقوام متحدہ کے نمائندے نے سوچی کانفرنس میں ایران اور ترکی کے اعلی سفارتکاروں کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے شام میں جنگ بندی کے حوالے سے بھی کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے کوئی خاص پیشرفت حاصل نہیں ہوئی مگر ہمیں امید ہے کہ جنیوا عمل کے تحت ہم جنگ بندی کی طرف مزید قریب ہوں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@