بیت المقدس پر اقوام متحدہ کی حالیہ قرارداد سے ہیگ میں واقع عالمی عدالت میں امریکہ کے خلاف استعمال کیا جانا چاہیے: فلسطینی وکیل

رام الله، 31 دسمبر، ارنا - فلسطینی وکیل نے بیت المقدس کے حوالے سے اقوام متحدہ کی حالیہ قرارداد پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں اس قرارداد سے امریکہ کے خلاف استعمال کیا جانا چاہیے.

یہ بات 'طلال ابو عفیفہ' نے گزشتہ روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

تفصیلات کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے ٹرمپ کے فیصلہ کے بعد حالیہ دنوں میں 128 موافق ووٹ کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف ووٹ دیا.

اس قرارداد کے تناظر میں بیت المقدس کی حیثیت میں تبدیلی کے مقصد کے لیے کسی بھی ایک طرفہ فیصلہ اور اقدام، بے ہودہ اور عبث ہے.

ابوعفیفہ نے کہا کہ یہ قرارداد، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دیگر قراردادوں کی طرح نہیں ہے کیونکہ یہ قرارداد اقوام متحدہ کی 377 قرارداد سے متعلق ہے جو' امن کے لیے اتحادیوں' کے عنوان سے جاری کی گئی ہے.

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد، وہ ممالک کی رکاوٹ ہو گی جو بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے.

انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاوس اپنے حالیہ شرمناک فیصلے پر عمل درآمد کرے تو ہم عالمی عدالت انصاف میں اس قرار داد سے اس کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@