2017مشرق وسطی میں امریکہ کی مایوسی کا سال تھا: روسی مسلم رہنما

ماسکو، 31 دسمبر، ارنا - عالمی امت مسلمہ کی تنظیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ 2017 مشرق وسطی میں امریکہ کی مایوسی اور ناکامی کا سال تھا.

یہ بات روسی تارکین وطن کی فیڈریشن کے سربراہ 'محمد امین ماجومدر' نے گزشتہ روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے روس میں امریکہ کی سب سے بڑی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شامی اور ایرانی فوج نے روس میں امریکہ کی جانب سے حمایت کرنے والے دہشتگردوں کو قلع و قمع کردیا.

انہوں نے کہا کہ امریکہ شام میں داعش دہشتگرد گروپ اور بعض سرگرم دہشتگردی تنظیموں کی مدد سے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کے ذریعے شام کی تقسیم کے لیے مواقع کو فراہم کرنا چاہتا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مشرقی وسطی میں اپنے مقاصد کی حصولی اور جمہوریت کی حمایت کے بہانے سے دہشتگردوں کو اربوں ڈالر فوجی اور مالی حمایت کی ہے.

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ صورتحال میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی، شامی فوج سے لڑنے کے لیے شام میں کچھ دہشت گردی گروپوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں.

روسی مسلم شخص نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے بعض اسلامی ممالک بشمول افغانستان، عراق اور لیبیا میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ مشرقی وسطی میں امریکہ کے ناپاک عزائم نے اس ملک کے چہرے پر سخت نقصان پہنچایا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک، امریکہ کو خطے میں موجودہ افراتفری اور جنگوں کا بنیادی سبب سمجھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے حوالے سے ٹرامپ کے حالیہ بیوقوفانہ فیصلہ، مشرقی وسطی کے حالات کو درہم برہم کرنے کے لیے امریکہ کی آخری کوشش تھا جو دنیا کے بہت لوگوں کے لیے اس فیصلہ ناقابل برداشت ہے.

روسی عھدیدار نے کہا کہ امریکی کی یہ غلطی، مشرق وسطی میں امریکہ کے اثر و رسوخ کم کرنے کے علاوہ فلسطینی مسئلے میں اس کا ثالثی کردار ادا کرنے کے امکان کو ختم کرے گی.

انہوں نے بتایا کہ اسلامی ممالک کو امریکہ کے عزائم اور مختلف سازشوں کے خلاف ہوشیار رہنا چاہیے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@