2017 کا سال ایران-پاکستان تعلقات کے فروغ کیلئے مثبت رہا

اسلام آباد، 30 دسمبر، ارنا - سال 2017 کا آخری سورج غروب ہونے کے قریب ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ سال اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کے تعلقات کے لئے بہت مثبت رہا.

اس سال کے شروع میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلی پاکستانی حکام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی.

فروری 2017 میں اس وقت کے پاکستانی مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے ایک اعلی سطح وفد کی قیادت میں ایران کا دورہ روزہ دورہ کیا. اس موقع پر انہوں نے ایرانی وزرائے دفاع اور خارجہ کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں.

فروری کے اوسط میں پاکستانی پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی کمیٹی کے اس وقت کے چیئرمین سردار اویس لغاری ایران گئے جہاں انہوں نے عالمی فلسطین کانفرنس میں شرکت کی.

اسی ماہ کے آخر پاکستانی بحریہ نے بین الاقوامی سمندری مشق امن-17 کا انعقاد کیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے بطور مبصر شرکت کی.

مارچ 2017 کے شروع دن میں صدر اسلامی جمہوریہ ایران جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے 13ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے. انہوں نے اس دورے اعلی سطح وفد کی قیادت کررہے تھے. اس موقع پر صدر روحانی نے ای سی او سربراہی کانفرنس میں اہم خطاب کیا.

اس دورے کے موقع پر انہوں نے پاکستانی وزیراعظم اور اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کیں.

اپریل کے مہینے میں پاکستانی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق ایک اعلی سطح پارلیمانی وفد کی قیادت میں ایران کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر گئے. اس موقع پر انہوں نے اعلی ایرانی قیادت من جملہ صدر روحانی اور اسپیکر علی لاریجانی کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں. پاکستانی اسپیکر نے مشہد، قم اور اصفہان بھی گئے.

اپریل میں پاک ایران سرحدی علاقے میں دہشتگردوں نے 9 ایرانی سرحدی گارڈز کو شہید کیا اور اس افسوسناک واقعے کے فورا بعد ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی سربراہی اعلی ایرانی سیاسی اور عسکری وفد نے پاکستان کا دورہ کیا. اس موقع پر ایرانی وفد نے اعلی پاکستانی سول اور عسکری رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں.

اسی سال کے اگست میں پاکستان کے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے صدر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے تہران کا دورہ کیا. انہوں نے اس موقع پر نومنتخب صدر کے علاوہ سنیئر ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں.

ستمبر 2017 پاک ایران برادرانہ تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا جب نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے اجلاس موقع صدر اسلامی جمہوریہ ایران جناب ڈاکٹر حسن روحانی اور وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی.

اسی ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی کا اعلام کرتے ہوئے پاکستان پر شدید تنقید کی. اس صورتحال کے پس منظر میں پاکستان نے اپنی ہمسایوں کے ساتھ رابطہ کیا اور اس مقصد کے لئے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ایران کا دورہ کیا. اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹر روحانی اور اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں. خواجہ آصف ایران کے مذہبی شہر مشہد کا دورہ بھی کیا.

اسی سال کے اکتوبر میں پاکستانی صوبے بلوچستان کی خاتون اسپیکر محترمہ راحیل دُرانی نے ایران کا دورہ کیا. انہوں اپنے ایرانی ہم منصب کے علاوہ مختلف حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں.

اکتوبر میں ایران کے وزیر صحت سید حسن قاضی زادہ ہاشمی عالمی ادارہ صحت کی علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے. اس موقع پر انہوں ںے اپنی پاکستانی ہم منصب محترم سائرہ افضل تارڑ سے ملاقات کی اور ان کو دورہ ایران کی دعوت بھی دی.

اس سال کے اختتام سے پہلے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیشرفت دیھکنے میں آئی جب پاکستانی مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا تاریخی دورہ کیا. اس موقع پر انہوں نے ایران کی اعلی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں. پاکستانی آرمی چیف نے دورے کے موقع پر کہا کہ پاک ایران سرحد امن و دوستی کی سرحد ہے.

پاکستانی سپہ سالار نے حضرت امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ کی زیارت کے لئے ایران کے مذہبی شہر مشہد بھی گئے.

نومبر کے مہینے میں پاکستان کی خاتون وزیر صحت محترمہ سائرہ افضل تارڑ نے اپنے ایرانی ہم منصب کی دعوت پر ایران کا دورہ کیا.

اس سال کے آخری مہینے دسمبر میں ایران نے اپنے ساحلی علاقے چابہار میں اہم بندرگاہ شہید بہشتی کے باضابطہ آپریشنل کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا جس کے لئے حکومت ایران نے پاکستان کے وزیر جہاز رانی جناب میر حاصل خان بزنجو کو اس تقریب میں شرکت کے لئے خصوصی دی جس کے بعد پاکستانی وزیر نے اس اہم موقع پر پاکستانی قوم اور حکومت کی نمائندگی کی.

اسی ماہ پاکستانی پارلیمنٹ کی میزبانی میں انسداد دہشتگردی اور علاقائی تعاون پر 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکت کے لئے ایرانی اسپیکر جناب ڈاکٹر علی لاریجانی نے اسلام آباد کا دورہ کیا. اس موقع پر ایرانی اسپیکر نے دہشتگردی کے خلاف پاک ایران تعاون کو بڑھانے پر زور دیا.

انہوں نے اس دورے میں پاکستانی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ اور اسٹیٹ بینک کے حکام سے ملاقاتیں کیں.

دسمبر میں اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی رابطہ کونسل کے 28ویں اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں نائب ایرانی وزیر خزانہ سید حسین میرشجاعیان حسینی نے شرکت کی.

اختتام پذیر ہونے والے 2017 کے سال میں پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران کے ثقافتی پروگرام منعقد ہوئے بالخصوص فلم میلوں کا بھی انعقاد گیا.

اسی دوران پاکستان میں مختلف تجارتی نمائشوں کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ایرانی کمپنیوں نے بھرپور شرکت کی.

یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران پاکستان تعلقات میں آنے والی مثبت تبدیلیاں دونوں ممالک کے روابط کو مزید مستحکم کریں گی اور توقع کی جاتی ہے کہ نئے سال میں دونوں برادر ملک کے تعلقات مزید ترقی اور کامیابی کی سمت آگے بڑھیں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@