پاکستان میں اسپیکرز کانفرنس، خود انحصاری کی ابھرتی ہوئی نئی لہر

تہران، 29 دسمبر، ارنا - انسداد دہشتگردی پر پاکستان میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والی پہلی 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خطی ممالک اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں.

پاکستان سمیت اسلامی جمہوریہ ایران، چین، روس ترکی اور افغانستان کے اسپیکرز نے 24سے 25 دسمبر تک اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کیں جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تبادلہ خيال کیا گیا.

ایران اور روس کی مشترکہ کوششوں سے شام اور عراق میں داعش جیسے خطرناک دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم کے خاتمے کے بعد اس بات کا خدشہ پیدا ہوا تھا کہ یہ دہشت گرد تنظیم خطے کے دیگر ممالک میں بیرونی طاقتوں کی مدد سے اپنے محفوظ پناہ گاہوں کے ذریعہ دہشت گردانہ کاروائی جاری رکھ سکتی ہے.

اب سے صورت حال سے نمٹے کے لئے اور خطے کی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقائی ممالک اس بات پر آمادہ ہوئے ہیں کہ وہ اپنے وسائل کے بل بوتے پر دہشت گرد تنظیموں سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اس حوالے سے علاقائي ممالک کو چاہیے کہ وہ پہلا ایک دوسرے کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون شروع کریں کیوں کہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صرف فوجی طاقت سے ممکن نہیں ہے بلکہ ثقافتی اقتصادی اور مذھبی اشتراکات سے بھی بھرپور فائدہ لینا چاہیئے. دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اس کی روٹ کو جاننے کی ضرورت ہے اور اس میں پہلا انتہاپسندی کے سوچ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے.

تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں پسماندہ علاقوں میں احساس محرومی اور غربت سے شکار جوان اور نوجوانوں کو اپنے شیطانی مقاصد کے لئے استفادہ کرتے ہیں اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے سبھی ممالک کو چاہیئے کہ وہ غربت کے خاتمے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں اور ساتھ ساتھ معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں اور نوجوانوں کے لئے نئے روزگار کے مواقع پیدا کریں تا کہ یہ لوگ دہشت گرد تنظیموں کے جال میں نہ آئیں.

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کانفرنس بہت اہمیت رکھتی تھی اس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے مسائل اور اختلافات کو اپنے باہمی تعاون سے حل کرسکتے ہیں اور انہیں باہر ڈیکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے.

خطے کے دہشت گردی سے شکار 6 اہم ممالک کے سپیکروں نے ایک میز پر بیٹھ کر اس بات کی ثبوت دی ہے کہ وہ خطے میں رونما ہونے والے چیلینچز سے مقابلہ کے لئے پوری طرح آمادہ ہے اور ایک دوسرے سے ہمہ وقت اور کسی بھی صورت میں تعاون کرنے کے لئے پوری ہوشیاری کے ساتھ تیار ہے.

اب وقت آگیا ہے کہ خطے کے ممالک دہشت گردی سے مقابلہ کے لئے بیرونی اور مغربی طاقتوں کو دیکھے بغیر ایک مشترکہ لایحہ عمل تیار کریں اور اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے کوئی بھی کوشش سے دریغ نہ کریں، یہ تب ممکن ہوگا کہ خطے کے 6 اہم ممالک دہشت گردی سے متعلق چیلینجز سے مقابلہ کے لئے پوری طرح ہماہنگی کے ساتھ متحدہ ہوجائيں اور اس بات کا طی کریں کہ وہ ہر صورت میں لعنت سے نمٹ سکتے ہیں.

1*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@