امریکہ دہشت گردی سے مقابلہ نہیں بلکہ اس سے کھیلتا ہے: ایرانی اسپیکر

اسلام آباد، 25 دسمبر، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی کی ہر قسم کی کاروائیوں کی مذمت کرتا ہے جبکہ امریکہ خطے دہشت گردی کے ساتھ مقابلہ نہیں بلکہ اس سے کھیلتا ہے.

ان خیالات کا اظہار 'علی لاریجانی' نے اپنے دورہ پاکستان کے اختتام کے موقع پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ ایران دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا ہے چاہے وہ پاکستان، افغانستان اور شام یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو ایران نے ہمیشہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مذمت کی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کو نہتے عوام بالخصوص مسلمانوں کے لئے ظلم و بربریت سمجھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ سب کو اس بات کا علم ہے کہ دہشت گردی کی لہر امریکیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور امریکیوں نے ہی داعش کو ایجاد کیا ہے.

علی لاریجانی نے پاک ایران تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا برادر اور دوست ملک ہے اور ہم ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے.

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ القدس پر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ملی ہے بلکہ ٹرمپ نے ایک بیوقوفانہ فیصلہ کیا جس سے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد مزید مضبوط ہوگیا.

انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن اور بینکاری شعبے میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم اور دونوں ایوانوں کے سربراہوں کے ساتھ اچھے مذاکرات کئے گئے اور ہمیں امید ہے کہ تمام مسائل کے حل کے لئے اچھی فضا قائم ہورہی ہے.

علی لاریجانی نے چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے درمیان تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے بالخصوص چابہار اور گوادر کے بارے میں بھی ایسی خواہش رکھتا ہے جبکہ ایرانی صدر نے بھی اس حوالے سے اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکے ہیں.

انہوں نے مزید بتایا کہ گوادر اور چابہار کے درمیان سسٹر پورٹس معاہدے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور ہم چاہتے ہیں دونوں بندرگاہوں کے درمیان قریبی تعاون قائم ہو جس میں خطے کی خوشحالی کے لئے فائدہ ہے.

لاریجانی نے ایران سعودیہ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، تمام اسلامی ممالک کو اہمیت دیتا ہے اور ہم آپس میں برادرانہ تعلقات کو مزید بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاکستان، ترکی اور دیگر اسلامی ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم سعودی عرب کو بھی اہمیت دیتے ہیں تاہم سعودی عرب نے اچھی راہ اختیار نہیں کی، یمنی عوام سالوں سے بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، یمنی قوم غربت کا شکار ہے مگر وہ عزمتمند ہے لہذا ہم ایسے طریقہ کار غلط سمجھتے ہیں.

ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے ہیں کوئی بھی اسلامی ملک ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات قائم کرے کیونکہ ہم اسے مسلم امہ کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@