پاکستانی حکام کی ایران کیساتھ بینکاری تعلقات کی جلد بحالی پر یقین دہانی

اسلام آباد، 25 دسمبر، ارنا - اعلی پاکستانی حکام بالخصوص قومی اسمبلی کے اسپیکر اور گورنر اسٹیٹ بینک نے اس بات کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے ساتھ بینکاری تعلقات جلد بحالی ہوں گے.

تفصیلات کے مطابق، ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ (پالیمنٹ) کے اسپیکر 'علی لاریجانی' جو گزشتہ دنوں اسلام آباد میں منعقدہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے ہیں آج بروز سوموار پاکستانی اسپیکر کی موجودگی پاکستانی اسٹیٹ بینک کے گورنر 'طارق باجوہ' کے ساتھ ملاقات کی.

اس ملاقات میں پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنردوست، پاکستانی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین مخدوم خسرو بختیار، پاکستان کے سیکریٹری خزانہ شاہد محمود اور ایران کے مرکزی بینک کے مستقل نمائندہ صمد کریمی بھی موجود تھے.

ایرانی اسپکر نے اس موقع پر پاک ایران تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مشکلات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز پاکستانی وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی ان مسائل کو اٹھایا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان 100 ارب ڈالر سے زائد تجارتی روابط قائم ہیں، ہمارے جرمنی، اٹلی اور فرانس کے ساتھ قابل قدر اقتصادی تعاون موجود ہے لہذا ہماری خواہش ہے کہ پاک ایران تجارتی سرگرمیاں بھی ماضی کی طرح مزید آگے بڑھیں.

علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کی بھارت کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کی سطح اس وقت 6 ارب ڈالر ہے اور یقینا پاک ایران تجارتی سرگرمیوں کو 5 ارب ڈالر لے جانے کا منصوبہ بھی دونوں ممالک کے مضبوط عزم اور عملی اقدامات کے ذریعے ممکن ہے.

انہوں نے بینکاری شعبے میں رکاوٹوں کے خاتمے پر پاکستانی اسپیکر کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی بحالی سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا.

اس ملاقات میں ایران کے مرکزی بینک کے خصوصی نمائندے نے پاک ایران تجارتی تعلقات پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ایران کے مرکزی بینک کے تعاون اور اس حوالےسے عالمی قوانین پر روشنی ڈالی.

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کے مرکز بینک دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص روس، سلطنت عمان، جنوبی کوریا اور بھارت کے ساتھ عالمی قوانین کے تحت اقتصادی اور مالیاتی سرگرمیوں میں مصروف ہے.

پاکستانی اسپیکر نے گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر اقتصادی شعبے سے متعلق حکام کے مؤقف کو سننے کے بعد اس کی بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاک ایران بینکاری شعبے سے متعلق مشکلات کا کم سے کم اگلے ماہ تک خاتمہ کیا جائے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@