ایران کو اپنے اہم دوست اور اسٹریٹیجک پارٹنر سمجھتے ہیں: پاکستانی اسپیکر

اسلام آباد، 25 دسمبر، ارنا - پاکستان کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا اہم دوست ملک اور اسٹریٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے.

یہ بات 'سردار ایاز صادق' نے پاکستانی دارالحکومت میں اسلام آباد میں اپنے ایرانی ہم منصب 'علی لاریجانی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط سیاسی اور سفارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید بڑھانے کی اشد ضرورت ہے.

پاکستانی اسپیکر نے اسلام آباد میں منعقدہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کی شرکت بالخصوص اپنے ایرانی ہم منصب کی موجودگی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس کانفرنس میں موثر موقف اپنایا اور ہم اس حوالے سے ایران کے کردار کو اہم سمجھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایران اور پاکستان کو مشترکہ دوست اور دشمن حاصل ہیں جبکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات بھی رکھتے ہیں تاہم بعض مواقع کا دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کے لئے اچھی طرح استفادہ نہیں کیا گیا.

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاک ایران تعلقات کی توسیع کے لئے دونوں ممالک کی پارلیمنٹ کا کردار اہم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کی مخصوص پارلیمانی کمیٹیاں باہمی تعلقات بشمول تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے موثر کردار ادا کریں گی.

اس ملاقات ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک ہیں اور دونوں ممالک کو چاہئے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی روابط بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کریں.

علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ کو عملہ جامعہ پہنانے کی ضرورت ہے.

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے برعکس اس دورے میں طے پانے والے فیصلوں پر جلد عمل درآمد ہو.

علی لاریجانی نے چابہار میں ایرانی بندرگاہ شہید بہشتی کے پہلی فیز کے آپریشنل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے درمیان ریلوے اور سڑک کے ذریعے قریبی تعاون کی توسیع کی ضرورت ہے.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تجارت کی سطح کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں جبکہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے دونوں ممالک کو ہی فائدہ ملے گا.

علی لاریجانی نے ایران اور پاکستان کے درمیان بینکاری تعلقات کی جلد بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی فریق سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات اٹھائے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@