امریکہ خطے میں شرارت کی علامت اور اس کا مرکز ہے: لاریجانی

اسلام آباد، 24 دسمبر، ارنا - ایرانی اسپیکر نے علاقائی صورتحال کے حوالے سے امریکہ کے دوہرے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج امریکہ خطے میں شرارت کی علامت اور اس کا مرکز ہے.

یہ بات 'علی لاریجانی' نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس کے خصوصی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں سے دہشتگردی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، شام، افغانستان اور عراق سے لے کر وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ میں دہشتگردی کی لعنت پھیلی ہوئی ہے.

لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکہ کی سربراہی میں 2001 میں نام نہاد اتحاد سامنے آیا اس نے شور تو بہت مچایا مگر آج دیکھیں کہ کیا ہمارے خطے میں دہشتگردی کی سطح کم ہوئی ہے یا اس میں اضافہ؟

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دو طرح کے اتحاد سامنے آئے ایک امریکی قیادت کا اتحاد اور دوسرا دہشتگردی کے خلاف ایران، روس اور ترکی کے مشترکہ اتحاد مگر امریکی اتحاد کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے علاوہ منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ کو روکے مگر وہ دونوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایران، روس اور ترکی نے شام میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب جنگ کی جس کا نتیجہ داعش پر کاری ضرب لگانا تھا.

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعووں کے جواب میں کہا کہ آپ وہی لوگ ہیں جنہوں نے داعش کو ایجاد کیا اور اب کس منہ سے کہتے ہیں کہ آپ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، یہ بات مضحکہ خیز ہے.

ایرانی اسپیکر نے روس اور چین کو علاقائی سیکورٹی کی اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے اپنی نئی خارجہ پالیسی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران خطے کے لئے بڑا خطرہ ہے.

انہوں نے دہشتگردی کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے موثر اقدامات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشتگردوں کے خلاف جنگ لڑی ہے مگر امریکیوں نے داعش کو بنایا.

علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ آج الزام تراشی کی چال چل ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ کو حقائق سے ہٹانا ہے، مگر یہ اقدام بیہودہ ثابت ہوگا، ایران نہ یمن کو میزائل فراہم کئے ہیں اور نہ عالمی رائے عامہ کی سوچ مسئلہ فلسطین سے ہٹ جائے گی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@