القدس پر ٹرمپ کا فیصلہ تاریخی غلطی ہے: پاکستانی چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد، 24 دسمبر، ارنا - پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین نے مقبوضہ فلسطین میں ہونے والی نئی انتفاضہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس پر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ ایک تاریخی غلطی ہے جس پر اسے نظرثانی کرنا ہوگی.

یہ بات 'میاں رضا ربانی' نے اتوار کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے خطے میں امریکہ کی نئی شیطانی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے بیوقوفانہ فیصلے کا دوٹوک جواب دے دیا اور دوسرے ممالک نے ان کے ایسے غلطی اقدام کی شدید مذمت کی.

میاں ربانی نے نائب امریکی صدر 'مائک پنس' کی جانب سے پاکستان کی انتباہ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کو اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جو کوئی ملک پر انحصار نہیں کر رہا ہے.

انہوں نے امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور بھارت کے درمیان باہمی تعاون، خطے میں نئے اتحادی بنانے اور ملسمانوں کی سلامتی کے لئے سازشوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے امن برقرار رکھنے کے لئے دوسرے ممالک کی تجویزوں کی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے ملک کی آزادی کے ساتھ سیکورٹی قائم ہوتی ہے.

انہوں نے وائٹ ہاؤس کی دوہری پالیسیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام پاکستان کو افغانستان میں اپنی ناکامی کی وجہ قرار دے کر اسلامی جمہوریہ ایران، چین، روس اور شمالی کوریا کو دہشتگردوں کے حامی ممالک اور خطے میں بڑا خطرہ سمجھتے ہیں.

پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ٹرمپ کی جانب سے تل ابیب سے القدس شریف میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے بیوقوفانہ فیصلے کا منہ ٹور جواب دے دیا.

انہوں نے دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لئے علاقائی ممالک کے درمیان باہمی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتہاپسندی اور دہشتگردی کی کسی بھی سازشوں سے نمٹنا چاہیئے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@