پاک چین اقتصادی راہداری میں ایران کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں: چینی تجزیہ کار

اسلام آباد، 24 دسمبر، ارنا – چینی تجزیہ کار نے پاکستان چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شراکت داری کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی صلاحیتوں بالخصوص توانائی کے وسائل کے ذریعے سی پیک منصوبے کے مقاصد کے حصول کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے.

یہ بات بیجنگ کی 'رین مین' یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ماہر 'وانگ یی وی' نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے چین اور پاکستان کے اقتصادی کوریڈور کے اسٹریٹجک منصوبہ کے مکمل عمل درآمد کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا اقتصادی منصوبہ جو پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کے ساتھ انجام ہو رہا ہے علاقائی ممالک اس سے فائدہ اٹھ سکتے ہیں.

وانگ یی وی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عظیم تیل اور گیس کے وسائل کے ساتھ اس پروگرام کے طویل المدتی مقاصد کو فراہم کر سکتا ہے اور ہم ایران کے ساتھ باہمی تعاون کے خواہاں ہیں.

انہوں نے خطے میں چین کی جانب سے شاہراہ ریشم کے منصوبے کی ساخت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ تجارتی تعلقات کی توسیع کے ذریعہ تمام علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرے گا.

چینی تجزیہ کار نے کہا کہ عالمی تجارتوں کا 90 فیصد سڑکوں اور بندرگاہوں کے ذریعہ انجام ہو رہی ہیں لہذا اس کی ترقی کے لئے خطے میں نئی بندرگاہیں اور نئے راستے کی ضرورت ہے.

انہوں نے 'گوادر اور چابہار' بندرگاہوں کی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دو بندرگاہیں ایک دوسرے کے ساتھ خطے کی پوری ضروریات کو فراہم کر سکتی ہیں اسی لئے ان کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے.

انہوں نے کہا کہ چین گوادر بندرگاہ اور بھارت چابہار بندرگاہ کی تکمیل میں مدد کر رہے ہیں اور ان کا مقصد علاقے میں عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@