چابہار اور گوادر کی بندرگاہیں لازم اور ملزوم ہیں: سنیئر ایرانی تجزیہ کار

اسلام آباد، 22 دسمبر، ارنا - سنیئر ایرانی تجزیہ کار اور سفارتی امور کے ماہر نے ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے درمیان کسی مقابلے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں بندرگاہیں ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں.

ان خیالات کا اظہار ایرانی محکمہ خارجہ میں بین الاقوامی امور کے ریسرچ سینٹر کے سربراہ اور سابق سفیر 'ہادی سلیمان پور' نے اسلام آباد میں ایران، چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کے بارے میں منعقدہ سمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے چابہار کو پاکستانی بندرگاہ کی رقیب بندرگاہ کی نگاہ سے دیکھنے کے خیالات کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بندرگاہیں اچھی صلاحیتوں کی حامل ہیں جن کو خطے اور انڈین اوشین میں بروئے کار لایا جاسکتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ چابہار بندرگاہ کی تعمیر اور اسے فروغ دینا صرف افغانستان کی ضروریات کو پورا کرنا نہیں یا اسے گوادر کی رقیب بندرگاہ بنانا نہیں بلکہ ہمارا مقصد چابہار کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی شعبے سے متعلق دوسری ایرانی بندرگاہوں پر سے دباؤ کو کم کرنا ہے.

سنیئر ایرانی تجزیہ کار نے کہا کہ گزشتہ سالوں سے ایران کی دو اہم بندرگاہ بندرعباس اور امام خمینی (رح) پورٹ میں تجارتی سرگرمیاں عروض پر پہنچ گئیں لہذا ان بندرگاہوں میں تجارتی سرگرمیوں کا بوجھ ختم کرنے کے لئے چابہار کا کردار اہم ہے.

انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مشترکہ راہداری منصوبے پر کام کررہے ہیں اور یقینا اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے کیونکہ ایران توانائی کے شعبے میں عظیم ذخائر کا مالک ہے لہذا توانائی کے لحاظ سے ایران کے کردار اہم ہے.

ہادی سلیمان پور نے مزید کہا کہ ایران، شاہراہ ریشم کی بحالی کے لئے چین کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کے لئے آمادہ ہے.

انہوں نے کہا کہ چین، پاکستان اور ایران کا سب اہم تجارتی شراکت دار ہے لہذا تینوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا چاہئے.

ایرانی ماہر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، پاکستان اور چین کو چاہئے کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور شمال جنوب کی اقتصادی راہداری سے متعلق سیکورٹی خدشات کو دور کریں.

انہوں نے علاقائی سطح پر ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی تعاون تنظیم، ڈی ایٹ اور مختلف علاقائی اور عالمی اقتصادی اداروں میں قابل تعریف تعاون کررہے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@