ایران کا امریکہ کیساتھ جوہری مسئلے پر مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں: کمالوندی

بیجنگ، 22 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی جوہری توانائی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران، جوہری مسئلے اور اپنی خودمختاری سے متعلق معاملات پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا.

یہ بات 'بہروز کمالوندی' نے چین کے سرکاری خبر رساں ادارے (شن ہوا) کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے مگر اس میں ہماری خودمختاری اور جوہری مسئلہ شامل نہیں.

انہوں نے کہا کہ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹی سمجھوتے پر مبنی ایک معاہدہ طے پا گیا اور اس کے نفاذ کے لئے سب کو ذمہ داری سے کردار ادا کرنا ہوگا.

بہروز کمالوندی نے کہا کہ جوہری معاہدہ طے پانے کے لئے تمام متعلقہ حکام، سیاستدان اور مختلف ممالک کے سفارتکار اس پر محنت کی ہیں اور یہ طویل مذاکرات اور مشاورت کا نتیجہ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے میں اب بھی بعض خامیاں موجود ہیں اور ایران چاہتا ہے اس کے مقابلے میں مغربی فریق اس معاہدے کی تعمیل کو زیادہ یقینی بنائیں اور امریکہ بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے اور توسیع پسندانہ حرکت کرنے سے بھی باز رہے.

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ترجمان نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران مخالف پابندیاں لگانے پر اتر آئے تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس کا بھرپور طاقت سے جوابی ردعمل دے گا.

انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے کے متعدد رپورٹس کے مطابق ایران اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے لہذا امریکہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اسے ایران کو اس کے مفادات سے محروم نہیں رکھنا چاہئے.

بہروز کمالوندی نے کہا کہ اب تک امریکہ نے جوہری معاہدے کے بعض نکات کی خلاف ورزی کرچکا ہے مگر ہم اسے انتباہ کرتے ہیں کہ ایران پر پابندیاں لگانے کی سوچ نہ کرے.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں قائم رہیں گے اور یہ سلسلہ جب تک دوسرے فریق بھی اپنے وعدوں پر قائم رہیں تو جاری رہے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@