21 دسمبر، 2017 8:42 PM
News Code: 3570181
0 Persons
شب یلدا، دنیاوی تکالیف کا واحد علاج

تہران، 21 دسمبر، ارنا - دنیا بھر میں بسنے والے ایرانی اور دوسری قومیں شب یلدا بہت جوش و جذبے سے مناتے ہیں جس کی جڑیں ہمیں فارسی تہذیب میں نظر آتی ہیں.

ایران کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک بشمول افغانستان، پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور آرمینیا میں بسنے والے لوگ موسوم سرما کی سب سے لمبی رات 21 دسمبر کو مناتے ہیں. اس دن دنیا سورج کی سب سے کم روشنی دیکھتی ہے.

در اصل یلدا، خاندانی اقدار کو اہمیت دینے والا تاریخی تہوار کا نام ہے. یلدا، اسلامی جمہوریہ ایران میں سب سے زیادہ جوش و خروش سے منائے جانے والا تاریخی تہوار ہے جو سال کی سب سے لمبی رات کو منایا جاتا ہے.

ہر سال 21 دسمبر کو ایرانی عوام سردیوں کی آمد پر یلدا نامی تہوار مناتے ہیں جو سال کی سب لمبی رات ہوتی ہے.

ایرانی عوام اس رات ملک بھر میں شب یلدا منائی اور بیرون ملک بسنے والے ایرانیوں نے بھی اس رات میں اپنے بچوں اور بزرگوں کے ساتھ وقت گزاریں.

یلدا تہوار کا سب سے اہم مقصد خاندانوں اور دوستی کو اہمیت دینا ہے.

ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے آنے سے بہت سارے تاریخی رسومات ختم ہوتی جارہی ہیں جیسے کے زردشتی تہوار 20 سال پہلے منایا جاتا تھا مگر اب صرف یلدا کی رات بھی ایران بھر میں منائی جاتی ہے.

ایران میں بسنے والی مختلف اقوام اس تہوار کو اپنے طریقوں سے مناتی ہیں. اس رات کے سب سے اہم سرگرمی کتاب پڑھ کر کہانی سنانا ہے.

ایران میں بزرگوں اور خاندانوں کے بڑوں کو بہت عزت دی جاتی ہیں کیونکہ ایرانی تہذیب میں عمر کو عقل کے ساتھ ملایا جاتا ہے.

یلدا تہوار پہ خاندانوں کے بڑے میزبان کے فرائض انجام دیتے ہیں اسی لئے بچے اور نوجوان اس رات کو منانے اپنے بڑوں کے گھروں میں جاتے ہیں.

اس موقع پر خاندان کے بزرگ گلستان سعدی، دیوان حافظ اور فردوسی کے شاہنامہ سے کہانیاں پڑھ کر سناتے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@