القدس پر ٹرمپ کا فیصلہ امریکہ کی اسلام دشمن پالیسی کی علامت ہے: واعظی

باکو، 21 دسمبر، ارنا - ایران کے صدارتی دفتر کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنا اور سلامتی کونسل میں فلسطین قرارداد کو ویٹو کرنا امریکہ کی اسلام دشمن پالیسی کی واضح علامت ہے.

ان خیالات کا اظہار 'محمود واعظی' نے جمعرات کے روز جموریہ آذربائیجان کے دارالحکومت 'باکو' میں منعقدہ 2017 بین الاقوامی اسلامی یکجہتی کے سال کی اختتامی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اسلام اور فلسطینیوں کے خلاف پالیسی پر عمل پیرا ہے اس لئے وہ القدس کو صہیونی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلام کرنے کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل میں فلسطین قرارداد کو بھی ویٹو کردیا.

انہوں نے مزید کہا کہ اب سب کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ امریکہ کا اصل مقصد اسلامی ممالک کے درمیان تفرقہ اور خلیج پیدا کرنا ہے جس سے وہ صہیونیوں کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے.

واعظی نے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے غیرمعمولی سربراہی اجلاس کے بروقت انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں فلسطینیوں کی امنگوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا جس سے مظلوم فلسطینی عوام کے لئے ایک روشن مستقبل کا اعادہ بھی کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ امریکی اور صہیونی حکمران چاہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کی ترجیح نہ رہے، وہ مسلمانوں اور اسلامی ریاستوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں.

ایرانی صدر کے چیف آف سٹاف نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین پر مضبوط اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور بیت المقدس کو فلسطینی سرزمین کا اصل دارالخلافہ مقرر کرنے کے لئے اس عمل میں بھرپور فعال کردار ادا کریں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالم اسلام کے دفاع، مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور امت اسلامی کی وحدت کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کسی بھی طرح کے تعاون سے دریغ نہیں کرے گا جبکہ مسلمانوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہماری اصولی پالیسی ہے.

واعظی نے مزید کہا کہ آذربائیجان کے صدر مملکت نے 2017 کو اسلامی ممالک کی یکجہتی کا سال قرار دیا تھا جس اور اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا.

انہوں نے کہا کہ ایران مسلم امہ کی وحدت اور اسلامی ممالک کو قریب لانے کے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے اور ہم اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے بھی حصہ لیں گے.

صدارتی چیف آف اسٹاف نے مزید کہا کہ آج کے اس حساس دور میں اسلامی ممالک کی بیٹھک نہایت اہم ہے اور ایسی تقاریب سے آپس کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو بھی مزید فروغ ملے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@