مسلمانوں کو دوسرا بالفور اعلامیہ منظور نہیں، یمن کو ھتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے: ولایتی

تہران، 21 دسمبر، ارنا - ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور نے بیت المقدس کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان اور اسلامی ممالک ہرگز بالفور اعلامیہ جیسی سازش کو دوبارہ تسلیم نہیں کریں گے.

ان خیالات کا اظہار 'علی اکبر ولایتی' نے 'العالم نیوز' چینل کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینی انتفاضہ کی بھرپور حمایت کرے گا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بالفور اعلامیہ (Balfour Declaration) ایک تاریخی مراسلہ ہے جس کو دو نومبر 1917ء میں اس وقت کے برطانوی وزیرخارجہ آرتھر جیمز بالفور نے یہودی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ والٹر روشیلڈ کے نام لکھا تھا جس میں فلسطینی سرزمین میں یہودیوں کی آبادی کے قیام پر مثبت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا.

بالفور اعلامیہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور صہونیوں کی ناجائز ریاست بنانے کے لئے ایک عالمی سطح پر سازش اور کوشش کا آغاز تھا.

علی اکبر ولایتی نے امریکہ کی جانب سے القدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کو ایک شیطانی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف فلسطینی قوم اور انتفاضہ کی بھرپور حمایت کرے گا.

یمن کو میزائل فراہ کرنے کے حوالے سے ایران کے خلاف امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے یمن کو میزائل نہیں دئے اور نہ ہی یمنیوں کو میزائل کی ضرورت ہے.

ولایتی نے کہا کہ یمن، سعودی عرب کے لئے دوسرا ویت نام ثابت ہوگا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@