سربراہ اقوام متحدہ نے ایران کے بارے اپنی چوتھی رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کردی

تہران، 21 دسمبر، ارنا - اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق قرارداد نمبر 2231 کے نفاذ پر اپنی چوتھی رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کردیا.

'انٹونیو گوٹیریش' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ایران جوہری معاہدے کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی تعمیل کریں.

سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کی اس فہرست سے خارجہ ہوگیا ہے جس میں ایران کو عالمی امن و سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا تھا.

سربراہ اقوام متحدہ نے اپنی اس رپورٹ میں بتایا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کو تقریبا دو سال ہونے کو ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن رکھنے کے لئے مثالی معاہدہ ہے جس سے ایرانی عوام کی خواہشات بھی پوری ہوں گی.

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے خطے میں تخفیف ھتھیار کے معاہدے کے شفاف کو بھی مدد ملے گی اس کے علاوہ یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سفارتکاری اور پُرامن مذاکرات سے ہی خطے اور دنیا میں تنازعات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے.

انٹونیو گوٹیریش نے ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق پر بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے کی 9 رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے جوہری معاہدے کے خلاف امریکی فیصلے پر تنقید کی اور اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ایران پر نئی امریکی پابندیوں سے بدامنی کی فضا پیدا ہوگی.

انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک، عالمی اور علاقائی اداروں پر بھی زور دیا کہ سب مل کر جوہری معاہدے کے بہتر نفاذ کی حمایت کریں.

انٹونیو گوٹیریش نے جوہری معاہدے کے حوالے سے یورپی یونین کے جذبہ خیرسگالی بالخصوص چین اور روس کے مثبت اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@