پانی کی سفارتکاری مغربی ایشیا کی سب سے اہم ضرورت ہے: عراقچی

تہران، 19 دسمبر، ارنا – نائب ایرانی وزیرخارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ پانی کی سفارتکاری مغربی ایشیا کی سب سے اہم ضرورت ہے اسی لئے سیکورٹی مذاکرات کے فریم ورک میں اس پر توجہ کرنا چاہیئے.

یہ بات 'سید عباس عراقچی' نے منگل کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں مغربی ایشیا میں ماحولیاتی خطرات اور علاقائی سلامتی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فریم ورک میں پانی کے مسائل اور ماحولیاتی خطرات پر اہمیت دینا ایک سفارتکاری موضوع ہونا چاہیئے.

عراقچی نے کہا کہ پانی کے مسئلے کے علاوہ سمارٹ آبی تجارت پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے اور تمام ممالک کو اس سے استعمال کرنا چاہیئے.

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک اپنی صلاحیتوں کی بنا پر پانی کی ضرورت اور پانی کے استعمال کی مقدار کے حوالے سے مصنوعات کی پیداواری پر فیصلہ کریں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا کے خطے میں ابھی صورتحال میں پانی ایک اسٹریٹجک سامان بن گیا ہے اسی لئے اس موضوع کے لئے اسٹریٹجک رویے کی ضرورت ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطی میں ماحولیاتی مسائل براہ راست پانی کے موضوع سے متعلق ہے اور خطے کے سب سے بڑا مشکل پانی کی کمی ہے اور مغربی ایشیاء کے 85 فیصد کا علاقہ خشک اور نیم خشک ہیں.

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 1995 کو مغربی ایشیاء کے علاقوں میں صرف تین ملک خشک تھے مگر 1999 کو ان کی تعداد میں 12 ممالک تک اضافہ ہوگیا اور بین الاقوامی معیاروں کے مطابق 2025 کو خطے کے تمام ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران خشک ہوں گے.

انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیاں سمیت بارش کی مسلسل کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی مصنوعات میں اضافہ، زندگی کے معیار کا اضافہ، پانی کی زیادہ ضرورت، ضرورت سے زیادہ پانی کی کھپت اور غیر مناسب ماڈل اس بحران کے پھیلاو کی سب سے اہم وجہ ہیں.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے کے دوسرے ممالک میں پانی کی کھپت کی مقدار عالمی معیار سے 70 فیصد زیادہ ہے اور ڈیموں کی تعمیر کے لئے بجٹ کی کمی، وسائل کا انتظام، رہائشی علاقوں کو بڑھانے کے حوالے سے ناجائز صہیونیوں کی پالیسی ، ان کی جانب سے پانی کی چوری اور بڑھتی ہوئی منتقلی خطے کے پانی کی کمی کے لئے اہم خطرات ہیں.

عراقچی نے کہا کہ پانی کی کمی کے تحت سرحدی تنازعات، سیکورٹی چیلنجوں، سماجی اور نسلی تنازعات، جنگ، خوراک کی سلامتی کے خطرات، صحت کے خطرات، بےروزگاری، غربت اور دیگر ممالک کو امیگریشن کے مسائل پیدا ہوجائیں گے.

انہوں نے ماحولیات کے مسائل کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دھول کے مسائل پانی کی کمی اور جھیلوں کے خشک ہونے سے براہ راست متعلق ہے جو ایرانی مشرقی اور مغربی علاقوں اس کے خطرات کا شکار ہیں اور اردن، شام، مصر، عراق اور یمن بھی پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا ہیں.

نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور نے کہا کہ بد قسمتی سے خطے میں موجودہ تنازعات، قومی مفادات کا تنازع، خطے میں مختلف ممالک، مختلف غیر ملکی پالیسیوں، غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی کے رجحان مستقبل کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کی کمی کا مسئلہ خطے میں جنگ اور تنازعات کا باعث بن جائے گا مگر بین الاقوامی تجربات اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس حوالے سے خطی ممالک کے درمیان اچھی باہمی تعاون موجود ہے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@