برطانیہ میں ایرانی شہری کے قتل کے واقعے پر سفیر ایران کا مضمون

لندن، 19 دسمبر، ارنا - برطانیہ میں تعینات ایران کے سفیر نے اپنے ایک خصوصی مضمون میں برطانیہ کے جنوب مغربی شہر 'برسٹل' میں ایک نسل پرست تشدد کے باعث قتل ہونے والے ایرانی نوجوان کے واقعے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مقتول کے لواحقین نے اپنے بھائی کے حق کے لئے کاوشیں کیں جو نسل پرست اقدامات کے روک تھام کے لئے مثالی ہے.

'حمید بعیدی نژاد' نے اپنے اس خصوصی مضمون میں ایرانی شہری 'بیژن ابراہیمی' کے قتل ہونے کے افسوسناک واقعے پر روشنی ڈالی.

انہوں نے کہا کہ بیژن ابراہیمی ایک معصوم ایرانی شہری تھے جنہوں نے ایک معمولی زندگی کی امید لے کر 2001 میں برطانیہ کا رخ کیا اور برسٹل شہر میں قیام پذیر ہوئے.

برسٹل میں سفید فام افراد زندگی بسر کرتے تھے جہاں بیژن ابراہیمی بھی ایک پُرامن زندگی کا آغاز کیا تھا مگر اس کے ایک نسل پرست اور تشدد پسند پڑوسی تھا جس نے بارہا بیژن ابراہیمی کو نسل پرستی کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بناتا رہتا تھا.

بیژن ابراہیمی نے متعدد بار علاقے کی کونسل اور پولیس کا رخ کیا اور اپنے انتہاپسند پڑوسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کوششیں کیں مگر پولیس نے بھی امتیازی سلوک اپناتے ہوئے نہ صرف بیژن کی آواز نہ سنی بلکہ اسے بلاجواز حوالات میں بھی بند کردیا تھا.

بیژن ابراہیمی 44 دفعہ پولیس کے پاس گئے تھے مگر اسے کچھ حاصل نہ ہوا اس کے بعد وہ افسوسناک دن آگیا اور 2013 میں بیژن ابراہیمی کے وہ انتہاپسند پڑوسی نے بیژن کو اپنے ہی گھر سے نکال کر زمین پر گسیٹھ گسیٹھ کو اس پر بے رحمانہ تشدد کیا اس کے بعد اسے آگ لگایا جس کے باعث نہتے ایرانی شہری بیژن ابراہیمی جاں بحق ہوگئے.

ایرانی سفیر نے اپنے اس مضمون میں مزید لکھا ہے کہ بیژن ابراہیمی کے بے رحمانہ قتل سے برطانوی معاشرے کو شدید صدمہ پہنچا جس کے بعد عدالت نے قاتل کو عمر قید کی سزا سنائی مگر اس حکم سے مقتول کی دو بہنوں کے دلوں کو سکون نہیں آیا اور وہ ایک بار پھر عدالت کا رخ کیا اور عدالت سے پولیس اور انتظامیہ کی غفلت اور نسل پرستی کا رویہ اپنانے پر انھیں بھی سزا سنانے کی اپیل کی.

ان تمام پیچگدیوں کے باجود مئی 2016 کو پلیس کی تحقیقات کے بعد بیژن ابراہیمی کے واقعے میں غفلت برتنے اور نسل پرستی رویہ اختیار کرنے کے جرم میں دو سنیئر پولیس افسر کو جیل کی سزا ہوئی اور دو اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کیا گیا.

اس صورتحال کے بعد برسٹل شہر کے میئر نے بیژن ابراہیمی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی غفلت اور نسل پرستی کے رویے کی وجہ سے یہ واقعہ رہنما ہوا جس پر سٹی کونسل اپنے افسوس اور معافی کا اظہار کرتی ہے.

سٹی کونسل اور میئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پولیس شعبے میں اصلاحات کریں گے جس کا مقصد مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کو روکنا ہے.

ایرانی سفیر نے کہا کہ ان تمام صورتحال اور نتائج سے تو بیژن ابراہیمی مرحوم یا ان کی دکھی بہنوں کو تو کوئی مدد نہیں ہوگی مگر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عدالت اور انصاف چاہئے اس بندے کے لئے فائدہ مند نہ بھی ہو، کے لئے لڑنے سے معاشرے میں دوسروں کے لئے مددگار ہوگی جس سے معاشرے کو بھی نسل پرستی اور تشدد سے پاک کیا جاسکتا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@