فلسطین قرارداد کو ویٹو کرنے پر ایران کی امریکی اقدام کی مذمت

تہران، 19 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں فلسطین کے حوالے سے مصر کی پیش کردہ قرار داد کو ویٹو کرنے کے اقدام کی مذمت کرکے اسے فلسطینی قوم کے حقوق کی پامالی اور عالمی امن و سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے.

یہ بات ترجمان دفترخارجہ 'بہرام قاسمی' نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصر کی جانب سے پیش کی جانے والی فلسطین قرارداد کے خلاف امریکی ویٹو پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کی کوششیں اور مصر جو سلامتی کونسل میں واحد عرب ملک ہے اس کی جانب سے تجویز شدہ قرارداد کی بنا پر کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی حکومت ناجائز صہیونی ریاست کی مسلسل حمایت کرکے ان کے حالیہ فیصلے کے خلاف کسی بھی منصوبے کے ساتھ مخالفت کرتی ہے.

قاسمی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جبکہ سلامتی کونسل میں فلسطین قرارداد کی 14 رکن ممالک کی حمایت کے باوجود اسے ویٹو کرنے کا امریکی مقصد ظالم صہیونی ریاست کی خاطر فلسطینی قوم کے حقوق کی پامالی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ بیت المقدس پر ٹرمپ فیصلہ جاہلانہ اور غیرتعمیری ہے جس کی اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر شدید مذمت کرتا ہے.

انہوں نے کہا ہم عالمی برادری اور دنیا کے تمام ممالک سے عالمی امن کی خاطر امریکہ کے اس فیصلے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ اس شیطانی سازش کا مقصد صہیونیوں کے مفادفات کے حصول اور خطے میں نئے بحران پیدا کرنا ہے.

خیال رہے کہ خاتون امریکی سفیر نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کردی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے اقدام کو مسترد کرنے کے لیے کہا گیا تھا.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@