رواں سال میں ایرانی معیشت میں 4.2 فیصد کا اضافہ متوقع

تہران، 18 دسمبر، ارنا - بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف )کی حالیہ رپورٹ کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال میں ایران کے جی ڈی پی کی شرح 4.2 فیصد تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ افراط زر کی شرح میں واضح کمی آئے گی.

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شق 4 کے مشاورتی بورڈ نے اتوار کے روز 2017 کی آخری رپورٹ میں ایران کے مالیاتی نظام میں اصلاحات کی درخواست کی ہے.

اس رپورٹ میں پیش ہونے والے خیالات اس بین الاقوامی فنڈ کے ملازموں کے خیالات ہیں اور اس فنڈ کے ایگزیگٹو بورڈ کے خیالات کو منعکس کرنے کی ضرورت نہیں ہے.

اس فنڈ کے مشاورتی بورڈ نے اپنے مشن کے ابتدائی نتایج کی بنا پر ایک رپورٹ پیش کی ہے اور اس فنڈ کے انتظام کی منظوری کے بعد اس رپورٹ کے جائزہ لینے کے لیے ایگزیگٹو بورڈ میں پیش کی جائے گی.

یاد رہے کہ خاتون 'کاتریونا پرفیلد' کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شق 4 کے مشاورتی بورڈ نے مذاکرات اور معیشتی صورتحال سے سالانہ رپورٹ تیار کرنے کے لئے 2 سے 13 دسمبر ایران کا دورہ کیا.

تفصیلات کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شق 4 کے تحت اس فنڈ کو ہر سال اپنے ممبروں کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات قائم کرنا چاہیے.

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شق 4 کے مشاورتی بورڈ نے اپنے حالیہ دورہ ایران میں ایرانی معیشت کی مستقبل کے حوالے سے اپنے سروے کو اپ ڈیٹ کیا اور مارچ 2018 کو اپنی رپورٹ کو اس فنڈ کے ایگزیگٹو بورڈ میں پیش کرے گا.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے@IrnaUrdu.