صہیونی سیاستدان فلسطینی شہریوں کو پھانسی دینے دلوانے کیلئے بل پاس کریں گے

تہران، 18 دسمبر، ارنا - ناجائز صہیونی ریاست کی چھ فریقی اتحادی جماعتوں نے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کیا ہے جسے پارلیمنٹ کی جانب سے بل کے طور پر پاس ہونے کے بعد فلسطینی شہریوں کو پھانسی کا عمل شروع ہوسکتا ہے.

فلسطینی 'معا' نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ بل اگلے ہفتوں میں حتمی منظوری کے لئے اسرائیلی پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا.

ناجائز صہیونی ریاست کی چھ فریقی اتحادی جماعتوں کے ایک رہنماء 'روبرت ایلاتف' نے دعوی کیا کہ اس قانون مکمل طور پر واضح ہونا چاہیئے اور ہم بل کے طور پر اس منصوبے کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں.

ایلاتف نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کے تمام اراکین سے فلسطینی شہریوں کو پھانسی دینے دلوانے کیلئے بل پاس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں.

واضح رہے کہ اس قانون کے مطابق اگر ایک فلسطینی شہری موت کی سزا سنائی ہوئے تو، سیکورٹی وزیر فوجی عدالتوں کی طاقتوں کے تحت اس پر پھانسی دینے کا حکم دے سکتا ہے.

ناجائز صہیونی ریاست کے وزیر جنگ 'آویگدور لیبرمن' نے کہا کہ اس بل کی توثیق فلسطینی حملوں کے خلاف ایک رکاوٹ ہوسکتی ہے.

جابر صہیونی حکومت کے ایسے ناپاک اقدام فلسطینی بہادر جوانوں کے حملوں کے مقابلے میں ان کی بے بسی اور کمزوری کی علامت ہے.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیمم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت القدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@