افغانستان قومی اتحاد کے انحصار کیساتھ علاقائی سلامتی کے خطرات پر قابو پائے: ایرانی عہدیدار

تہران، 17 دسمبر، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران اور افغانستان کے پارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ نے افغانستان کے قومی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کی قوم اور حکومت کو قومی اتحاد کے انحصار کے ساتھ علاقائی سلامتی کے خطرات پر قابو پانا چاہیئے.

یہ بات 'کوروش کرم پور' نے اتوار کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے افغان ہم منصب 'داوود کلکانی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ثقافتی اور تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے مشترکہ تعلقات باہمی تعاون کی ترقی کے لئے ایک سنہری موقع ہے.

کرم پور نے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمانی دوستی گروپ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا، سرکاری اور نجی شعبوں کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) افغانستان کے ساتھ قانون سازی اور نگرانی کے حوالے سے اپنے تجربات کی منتقلی کے لئے تیار ہے.

انہوں نے ایران کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران میں افغان شہریوں کی قانونی موجودگی کے ساتھ، ان لوگوں کی خدمت میں بہتری آئے گی.

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور افغانستان کے درمیان اچھے سیاسی تعلقات قائم ہے اور اقتصادی تعلقات کی مزید مضبوطی کے لئے بھرپور کوششیں ناگزیر ہیں.

انہوں نے افغانستان میں سیکورٹی صورتحال اور داعش دہشتگرد گروپوں کے پھیلانے پر اپنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ افغان قوم اور حکومت قومی اتحاد اور اندرونی باہمی اتحاد کے انحصار کے ساتھ اس ملک کے سلامتی مسائل کا حل کرے اور ہم دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے باہمی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں.

کلکانی نے کہا کہ ہم ایرانی پارلیمنٹ کے ساتھ تجربات کی منتقلی کے حوالے سے دوطرفہ تعلقات کی توسیع دینے پر آمادہ ہیں.

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد گروپ دنیا بھر میں اپنے طاقتور حامی ممالک کے ذریعہ شیطانی سازشیں کر رہے ہیں اور ہم ان کے اقدامات سے مقابلہ کریں گے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اسلامی ممالک کو باہمی اتحاد پر دعوت دیتے ہیں کیونکہ خطے کے بحران کے حل کا واحد طریقہ مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے درمیان باہمی اتحاد ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں خطے کی بدامنی چاہتی ہیں اسی لئے علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مسائل پر قابو پانا چاہیئے.

انہوں نے کہا کہ ہم افغان پناہ گزینوں کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے@IrnaUrdu.