ایران ہمیشہ سے یمن میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کا حامی رہا ہے: ظریف

تہران، 15 دسمبر، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں یمن بحران پر ایران کے کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران شروع دن سے ہی جنگ بندی، امدادی سامان کی ترسیل اور مذاکرات کا حامی رہا ہے.

'محمد جواد ظریف' نے جمعہ کے روز اپنے ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا کہ ایران نے یمن بحران کے شروع دن سے فوری جنگ بندی، امداد کی ترسیل اور امن مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا جبکہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو ھتھیاروں کی فروخت کرکے یمن میں نہتے عوام کا قتل عام کرایا اور وہاں مظلوم عوام پر قحط مسلط کردیا.

ظریف نے کہا کہ امریکہ ہرگز من گھڑت کھانیوں کے ذریعے اور حقائق کو مسخ کرکے جنگی جرائم میں اپنے ملوث ہونے کی نشانیوں کو مٹا نہیں سکتا.

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں خاتون امریکی مندوب نے گزشتہ روز ایران مخالف بے بنیاد الزامات کو دہراتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے اور جوہری معاہدے کے باوجود ایران کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.

'نیکی ہیلی' نے الزام لگایا کہ ایران یمن میں حوثیوں کو میزائل فراہم کررہا ہے اور یہ میزائل ایران کی شہید باقری عسکری بیس تیار کئے گئے ہیں.

ایرانی سفیر نے بھی امریکی مندوب کے الزامات کے جواب میں کہا کہ بدقسمتی سے انھوں نے یمنی قوم پر غربت، غذایی قلت اور عذاب مسلط کیا ہے مگر یمنی عوام جارحیت، بمباری اور دھمکیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے.

غلام علی خوشرو نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے سعودیہ کو ھتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں فوری جنگ بندی اور فضائی بمباری روکنے کا مطالبہ کرتا ہے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@