ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں نے اسلامی ممالک کو مزید متحد کردیا: تہران امام جمعہ

تہران، 15 دسمبر، ارنا - ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ناجائز صہیونی ریاست اپنی شیطانی سازشوں سے اسلامی ممالک کے درمیان فسادات کرانا چاہتے تھے مگر ان کی ہرزہ سرائیوں کا نتیجہ یہ تھا کہ اسلامی ممالک مزاحمتی عمل کے لحاظ مزید متحد ہوگئے.

ان خیالات کا اظہار علامہ 'کاظم صدیقی' نے آج تہران میں نماز جمعہ کے ایک عظیم اجتماع میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کی اولین ترجیح ہے جسے امریکہ اور صہیونی حکمران فراموش کرانا چاہتے تھے تاہم فلسطین کے مسئلے کو کسی حد تک متاثر کیا گیا تھا مگر ٹرمپ کے حالیہ جاہلانہ بیانات سے اسلامی ممالک ایک بار پھر متحد ہو کر میدان میں آگئے اور اپنے دو ٹوک ردعمل کا اظہار بھی کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سامراجی قوتیں نہ صرف اپنے عزائم میں شکست کھائیں بلکہ خطے میں اخلاقی، سیاسی اور عسکری لحاظ سے ہمارے اثر و رسوخ بڑھ گئے.

تہران کے امام جمعہ نے کہا کہ آج اسلامی ممالک نئے خطرات سے اپنے اتحاد نمٹنے کے لئے صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ زینبیون، حیدریون اور فاطمیون جیسے مزاحمتی فرنٹ کی بدولت ایک مضبوط دفاعی حلقہ بنایا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کا خاتمہ طویل مدت نہیں بلکہ بہت قریب ہے، فلسطینی عوام نے متحد ہو کر تیسری انتفاضے کا آغاز کردیا ہے، اسلامی تعاون تنظیم کے غیرمعمولی اجلاس کا بھی انعقاد کیا گیا اور عالم اسلام نے متفقہ اعلامیے کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر اپنی اصل پوزیشن پر لے آیا.

علامہ صدیقی نے لبنان کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے حالیہ صہیونی مخالف بیانات اور دنیا کے ممالک کو دی جانے والیں تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ممالک صہیونی سفارتخانوں کو بند کرکے امریکی سفیر کو بھی طلب کرکے اس سے بھرپور احتجاج کریں.

انہوں نے کہا کہ قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای کے فرمان کے مطابق، فلسطینی عوام کو یکجا ہوکر کھڑا ہونا چاہئے اور ظلم کے خلاف تیار ہوں، دوسری جانب اسلامی ممالک صرف بیانات اور اعلامیے کی حد تک نہ رہیں بلکہ سب میدان میں آئیں.

ایرانی عالم دین نے کہا کہ جو لوگ امریکہ اور مغربی سامراجی قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کے منصوبوں کو اپنے عوام کے لئے اجرا کرتے ہیں وہ در حقیقت ظالموں کو مدد فراہم کررہے ہیں.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@