روس کا ایران مخالف امریکی الزامات پر عدم اطمینان کا اظہار

تہران، 15 دسمبر، ارنا - یمن میں تعینات روسی سفیر نے ایران مخالف امریکہ کے ان الزامات کو مشکوک قرار دیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ایرانی ساختہ میزائل داغے گئے ہیں.

روسی ٹیلی ویژن روسیا الیوم کے مطابق، 'ولادیمیر دیدوشکن' نے یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے جانے والے میزائل کا ایرانی ہونے کے حوالے سے امریکی الزامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا.

انہوں ںے مزید کہا کہ یمن کی فضائی اور سمندری انٹری پوائنٹس پر عربی اتحاد کی قریب نگرانی کے مد نظر ہمیں ایرانی میزائل کے یمن لانے کے دعوے پر شک ہے.

روسی سفیر نے کہا کہ عربی فوجی اتحاد امریکہ اور برطانوی ریڈار نظام کی خدمات بھی حاصل کررہا ہے جس کا مقصد یمن میں ھتھیاروں کی اسملنگ پر کڑی نظر رکھنا ہے لہذا یہ بات قابل یقین نہیں کہ عربی اتحاد ایسے میزائل کی یمن انٹری کو نہ روک سکے.

انہوں نے کہا کہ بعض چھوٹے قسم کی الکٹرانیک مصنوعات کو شاید یمن لایا جاسکے مگر باہر سے میزائل ملک میں لانا قابل امکان نہیں ہے.

روسی سفیر نے کہا کہ یمنیوں کی صلاحیت اور دفاعی قابلیت سے غافل نہیں ہونا چاہئے، میزائل تیار کرنے کے شعبے یمن میں بڑے ماہرین ہیں لہذا اگر ہمیں یہ اطلاع ملے کہ یمن میں میزائل تیار ہورہے ہیں تو یہ بات قابل حیرت نہیں ہونی چاہئے.

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں خاتون امریکی مندوب نے گزشتہ روز ایران مخالف بے بنیاد الزامات کو دہراتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے اور جوہری معاہدے کے باوجود ایران کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.

'نیکی ہیلی' نے الزام لگایا کہ ایران یمن میں حوثیوں کو میزائل فراہم کررہا ہے اور یہ میزائل ایران کی شہید باقری عسکری بیس تیار کئے گئے ہیں.

ایرانی سفیر نے بھی امریکی مندوب کے الزامات کے جواب میں کہا کہ بدقسمتی سے انھوں نے یمنی قوم پر غربت، غذایی قلت اور عذاب مسلط کیا ہے مگر یمنی عوام جارحیت، بمباری اور دھمکیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے.

'غلام علی خوشرو' نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے سعودیہ کو ھتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں فوری جنگ بندی اور فضائی بمباری روکنے کا مطالبہ کرتا ہے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@