جوہري معاہدہ جنگ كے بجائے سفارتكاري كا طريقہ اپنانے كي روشن مثال ہے: ايراني سفير

تہران، 14 دسمبر، ارنا - برازيل ميں تعينات اسلامي جمہوريہ ايران كے سفير نے ايران اور عالمي قوتوں كے درميان جوہري مسئلے پر ہونے والے مذاكرات كا ذكر كرتے ہوئے كہا ہے كہ جوہري معاہدہ جنگ اور خطرات كي بجائے امن اور سفارتكاري كا طريقہ اپنانے كي كامياب مثال ہے.

جوہري فري ورلڈ كے عنوان سے ايك سيمينار سے خطاب كرتے ہوئے 'سيد علي سقائيان' نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران سمجھتا ہے كہ جوہري ہتھياروں سے مقابلے كے لئے اسے ہر صورت ميں روكنا ہے جوہري ہتھياروں كے جزوي طور پر دستبردار ہونے سے دنيا ميں امن قائم نہيں ہوگا.

ايراني سفير نے نيوكلياتي فري علاقوں كے اعلان كي اہميت بتاتے ہوئے كہا كہ دنيا صرف اس وقت امن كا گہوارہ بن جائے گي جب اس كے سارے علاقوں كو جوہري ہتھياروں سے مكمل طور پر آزاد تصور كيا جائے گا.

انہوں نے كہا كہ ايران جوہري ہتھياروں سے آزاد مشرقي وسطي كي حمايت كرتا ہے جبكہ امريكہ صيہوني حكومت كي جوہري سرگرميوں كي وجہ سے اس كوشش كي مخالفت كرتا ہے.

ريو ڈي جينرو كي يونيورسٹي كے پروفيسر 'ہرز' نے ايران كے سپريم ليڈر آيت اللہ سيد علي خامنہ اي كے فتوے جس ميں انہوں نے جوہري ہتھياروں كو ايك غير اسلامي اقدام قرار ديا تھا اس كي اہميت كے بارے ميں كہا كہ بين الاقوامي برادري كو چاہيئے كہ وہ ايراني سپريم ليڈر كي طرح جوہري ہتھياروں سے مقابلے كے لئے اور دنيا كو مزيد محفوظ بنانے كے لئے اپنا كردار ادا كريں.

1*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينك پر فالو كيجئے. IrnaUrdu@