جوہری معاہدے کے نفاذ پر گروپ 1+5 نے امریکہ کو خبردار کیا ہے: ایرانی مذاکرات کار

ویانا، 14 دسمبر، ارنا - اعلی ایرانی جوہری مذاکرات کار نے کہا ہے کہ مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے دوران گروپ 1+5 کے تمام فریقین نے امریکہ کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرے.

ان خیالات کا اظہار 'سید عباس عراقچی' نے آسٹرین شہر 'ویانا' میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے 10ویں اجلاس کے اختتام کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے کا متن واضح ہے اور اس حوالے سے گروپ 1+5 کے تمام نمائندوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے.

عراقچی نے کہا کہ ماضی کی نشستوں کے مقابلے میں اس بات جوہری معاہدے کے فریقین نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ ایٹمی سمجھوتے کے نفاذ کو ایک سازگار اور تعمیری فضا کے تحت یقینی بنائے.

انہوں نے مزید کہا کہ 10ویں نشست میں موجود امریکی حکام نے اپنے ماضی کے دععوں کو دہرایا تاہم انہوں نے کہ امریکہ، جوہری معاہدے پر قائم ہے اور اس حوالے سے امریکی حکومت کا فیصلہ بھی معاہدے پر قائم رہنا ہے.

سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی اندرونی تبدیلیوں سے ہمیں اور مشترکہ کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، امریکی چاہئے جوہری معاہدے کو کانگریس اور حکومت کے درمیان رد و بدل کرے مگر اسے کسی بھی صورتحال میں جوہری معاہدے پر عمل کرنا ہوگا.

جوہری معاہدے اور امریکی حکام کے حالیہ دعووں پر تبصرہ کرتے ہوئے عراقچی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ہرگز جوہری معاہدے اور جوہری مسئلے پر از سرنو مذاکرات نہیں کرے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ جن چیزوں پر مذاکرات کرنے تھے وہ جوہری مذاکرات کے دوران کئے گئے لہذا اس مسئلے پر دوبارہ مذاکرات کی گنجائش نہیں.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اکتوبر میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار کردیا جبکہ دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص یورپی یونین نے ایران سے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

یورپی رہنماوں کا بھی کہنا تھا کہ ٹرمپ معاہدے کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@