القدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کئے بغیر امن کا قائم ممکن نہیں: فلسطینی صدر

تہران، 14 دسمبر، ارنا – فلسطینی صدر نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کئے بغیر خطے اور دنیا میں امن کے قیام کا امکان ممکن نہیں ہے.

یہ بات صدر 'محمود عباس' نے استنبول میں بیت المقدس کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC)کے غیرمعمولی سربراہی کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ متحد اور بیت المقدس کے تحفظ کے لیے فلسطین کو نشانہ بنانے والی تمام سازشوں کے خلاف کھڑے ہیں.

محمود عباس نے کہا کہ ہمیں فلسطین پر صہیونی ریاست کے قبضہ کے خاتمے کے لیے اس اجلاس میں بیت المقدس اور ان کے مقدس مقامات کی حمایت کے لیے فیصلہ کن فیصلہ اپنانا چاہیے.

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس ہی فلسطین کے دارالحکومت ہے اور رہے گا.

انہوں نے دنیا کے تمام مذہبی تنازعات اور دہشتگردی گروپوں کی تخلیق میں امریکہ کو سب سے بڑا ملوث عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس پر امریکہ کے حالیہ فیصلے کے بعد ہم نے کچھ بین الاقوامی تنظیموں میں اپنی شمولیت کے حوالے سے واشنگٹن پر اپنے تمام وعدوں کو منسوخ کر دیا ہے.

فلسطینی صدر نے کہا کہ جابر صہیونی ریاست نے بہت سے نہتے فلسطینی عوام کو خاک وخون میں غلطاں کردیتے ہوئے تمام بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے اس جارحانہ اور انسانیت سے دور اقدامات پر کسی کو جوابدہ نہیں ہے.

صدر عباس نے مزید کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا، اس ناجائز ریاست کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف خاموش ہے اور اسے تسلیم کرتی ہے.

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دنیا نے امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف متحد ہوکر کھڑا ہے.

فلسطینی صدر نے مزید کہا کہ بالفور اعلامیے سے 100 سال گزرنے کے بعد آج امریکہ اس بیان پر من وعن عملدرآمد کرنے کی کوشش کر رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم آج سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کے ثالثی کردار کو قبول نہیں کریں گے.

محمود عباس نے بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کو ایک بڑی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے خلاف قرار دے دیا.

ہم نے دو ریاستی حل پر یقین رکھنے والے ملکوں سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں.

اقوام متحدہ میں اپنی مکمل رکنیت حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل قوانین پر عمل نہ کرے تو ہم بھی مجبوری سے اس ناجائز ریاست کے ساتھ طے پانے والے تمام معاہدوں کو منسوخ کریں گے.

بیت المقدس کی حمایت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلہ کے خلاف موثر حکمت عملی بنانے کے مقصد سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سربراہوں کا غیرمعمولی اجلاس کا آغاز گزشتہ روز ترک شہر 'استنبول' میں ہوگیا.

او آئی سی کے غیرمعمولی اجلاس میں 48 ممالک کے رہنما بشمول اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان، اردن، جمہوریہ آذربائیجان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، فلسطین، قطر، کویت،لیبیا، لبنان، صومالیہ، سوڈان اور ٹوگو شریک ہیں.

پاکستان، ملیشیا اور جبوتی کے وزرائے اعظم سمیت قازقستان اور ازبکستان کے اسپیکر، کومور کے وزیرخارجہ اور نائب عمانی وزیراعظم بھی اس اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی پہنچ گئے ہیں.

اسلامی تعاون تنظیم کے صدر کی دعوت پر قبرص کی ترک آبادی کے خصوصی نمائندہ اور وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو بحیثیت مہمان خصوصی اس اجلاس میں شریک ہیں.

9410*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@