القدس کے دفاع کیلئے تمام اسلامی ممالک کیساتھ غیرمشروط تعاون کیلئے آمادہ ہیں: ایرانی صدر

استنبول، 13 دسمبر، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران بیت المقدس کے دفاع اور فلسطینی قوم کی بھرپور حمایت کے لئے تمام اسلامی ممالک کے ساتھ غیرمشروط تعاون کے لئے آمادہ ہے.

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے بدھ کے روز ترک شہر استنبول میں القدس کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے غیرمعمولی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلامی تعاون تنظیم کے غیر معمولی اجلاس کے انعقاد پر ترک ہم منصب کا شکریہ ادا کیا

انہوں نے کہا کہ آج یہاں اسلامی سربراہ سارے ایک پیلٹ فارم پر اکھٹے ہو گئے جن کا مقصد بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے غیر قانونی فیصلے کے خلاف مشترکہ لایحہ عمل طے کرنا ہے.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کی پہلی ترجیح ہے لہذا تمام عالم اسلام کو ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف اکٹھا ہونا ہوگا.

ڈاکٹر روحانی نے القدس کے حوالے سے امریکہ کے غیرقانونی اور غلط فیصلے سے نمٹنے کے لئے سات تجاویز پیش کیں اور مزید کہا کہ امریکہ کو صرف صہیونیوں کے مفادات کی فکر ہے اور اس نے ہرگز فلسطینیوں کے مطالبات کا احترام نہیں کیا.

اسلامی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی 7 تجاویز پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس اجلاس کے ذریعے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت ہونی چاہئے، عالم اسلام کی وحدت ضروری ہے، آپس میں بعض مسائل پر اختلافات ہیں مگر القدس اور فلسطین کے دفاع پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ عالم اسلام کے تمام مسائل کو باہمی مکالمے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے.

صدر روحانی نے اپنی تجاویز کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ کو جان لینا چاہئے کہ عالم اسلام ہرگز فلسطین اور اس کے عوام سے غافل نہیں اور فلسطین کے حوالے سے عالمی قوانین کو نظرانداز کرنے کا اقدام ہرگز لاجواب نہیں رہے گا.

انہوں نے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکی فیصلے کے خلاف اپنے مؤقف کو کھل کر پیش کریں اور یورپی اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ اس حساس مسئلے کو اٹھائیں.

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا پہلا اور ترجیحی جگے پر واپس لے کر آنا چاہئے، شام و عراق میں داعش کی شکست کے بعد ہمیں اس بات سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ ناجائز صہیونی ریاست کے پاس موجود مہلک اور جوہری ھتھیاروں سے تمام خطے اور دنیا کو شدید خطرات لاحق ہیں.

انہوں نے اپنی چھٹی اور ساتویں تجاویز کو بھی پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے کلیدی کردار کا حوالہ دیا اور اقوام متحدہ میں موجود اسلامی ممالک کے وفود پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کا فعالانہ انداز میں تعاقب کریں.

انہوں نے کہا کہ القدس مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور القدس فلسطین کی اصل پہچان اور نشانی ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ گزشتہ دنوں سے بہادر فلسطینی عوام کی صہیوںی حکمرانوں اور ظالم فورسز کے خلاف مزاحمت کو دیکھ کر ایک بار پھر یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ فلسطینی عوام ہرگز شیطانی سازشوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے بلکہ وہ اپنے حقوق کے لئے آخری دم تک لڑیں گے.

امریکی رویے کے خلاف مسلم ممالک کی جانب سے فوری اور موثر موقف اپنانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ امریکی صدر کے غلط فیصلے کو مزید بے نقاب کرنے کے لئے اسلامی سربراہوں کا یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل ہے.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@