القدس پر ٹرمپ فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں: ترک صدر

استنبول، 13 دسمبر، ارنا - ترک صدر 'رجب طیب اردوان' نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی فیصلے کا تاریخی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کوئی جواز نہیں ہے.

یہ بات صدر اردوان نے بدھ کے روز ترک شہر استنبول میں القدس کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کے سربراہوں کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے سفارتخانے کو مقبوضہ فلسطین سے بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی فیصلے کا مقصد مظلوم فلسطینیوں کو سزا دینا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ 1947 سے اب تک فلسطین پر صہیونیوں کا ناجائز قبضہ ہے اور اس غیرقانونی عمل کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے.

ترک صدر نے کہا کہ صہیونی حکمران ایک دہشتگرد اور قابض حکمران اور ریاست ہیں جنہوں نے فلسطینی سرزمین کو تقسیم کیا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جس نے بھی القدس کا سفر کیا ہو اسے یہ بات معلوم ہے کہ اس جگے پر قبضہ ہوا ہے جبکہ 6 دسمبر کو امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلی کی کوئی قانونی یا بین الاقوامی سطح پر حیثیت نہیں ہے.

انہوں نے کیتھولک رہنما پوپ فرانسس کی جانب سے القدس کے حوالے سے اسلامی ممالک کے فیصلے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ترک صدر نے مزید کہا کہ کسی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ القدس میں اپنا سفارتخانہ قائم کرے.

تفصیلات کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' بھی سربراہی اجلاس میں خطاب کریں گے اور وہ اس موقع پر القدس اور مقوبضہ فلسطین پر ایران کے اصلی مؤقف پر روشنی ڈالیں گے.

او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں صدر ایران کے علاوہ، فلسطینی صدر، آذربائیجان، لبنان اور افغانستان کے صدور کے علاوہ قطری اور اردنی امیر بھی شریک ہیں.

گزشتہ روز اسلامی ممالک کے سنیئر حکام کی نشست منعقد ہوئی جس میں حتمی ڈرافٹ کو تیار کیا جائے جسے آج وزرائے خارجہ کی نشست میں پیش کیا گیا.

سربراہی اجلاس میں، اسلامی ممالک کے رہنما خطاب کریں گے جس کا مقصد بیت المقدس کا دفاع کرنا اور القدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف اپنے مضبوط مؤقف کا بھی اعلان کرنا ہے.

اسلامی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا جس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رسمی مؤقف سامنے آئے گا.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@