ترکی میں اسلامی سربراہوں کے اجلاس کا آغاز، ایرانی صدر کی شرکت

استنبول، 13 دسمبر، ارنا - بیت المقدس کی حمایت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلہ کے خلاف موثر حکمت عملی بنانے کے مقصد سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سربراہوں کا غیرمعمولی اجلاس کا آغاز آج بروز بدھ ترک شہر 'استنبول' میں ہوگیا جس میں ایران کے صدر ڈاکٹر 'حسن روحانی' سمیت مختلف اسلامی ممالک کی قیادت شریک ہیں.

تفصیلات کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران سربراہی اجلاس میں خطاب کریں گے اور وہ اس موقع پر القدس اور مقوبضہ فلسطین پر ایران کے اصلی مؤقف پر روشنی ڈالیں گے.

او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں صدر ایران کے علاوہ، فلسطینی صدر، آذربائیجان، لبنان اور افغانستان کے صدور کے علاوہ قطری اور اردنی امیر بھی شریک ہیں.

گزشتہ روز اسلامی ممالک کے سنیئر حکام کی نشست منعقد ہوئی جس میں حتمی ڈرافٹ کو تیار کیا جائے جسے آج وزرائے خارجہ کی نشست میں پیش کیا گیا.

سربراہی اجلاس میں، اسلامی ممالک کے رہنما خطاب کریں گے جس کا مقصد بیت المقدس کا دفاع کرنا اور القدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف اپنے مضبوط مؤقف کا بھی اعلان کرنا ہے.

اسلامی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا جس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رسمی مؤقف سامنے آئے گا.

او آئی سی کے غیرمعمولی اجلاس میں 48 ممالک کے رہنما بشمول اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان، اردن، جمہوریہ آذربائیجان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، فلسطین، قطر، کویت،لیبیا، لبنان، صومالیہ، سوڈان اور ٹوگو شریک ہیں.

پاکستان، ملیشیا اور جبوتی کے وزرائے اعظم سمیت قازقستان اور ازبکستان کے اسپیکر، کومور کے وزیرخارجہ اور نائب عمانی وزیراعظم بھی اس اجلاس میں شریک ہیں.

اسلامی تعاون تنظیم کے صدر کی دعوت پر قبرص کی ترک آبادی کے خصوصی نمائندہ اور وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو بحیثیت مہمان خصوصی اس اجلاس میں موجود ہیں.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@