وسطی ایشیائی ممالک چابہار بندرگارہ کے منصوبے میں حصہ لیں: بھارتی پروفیسر

نئی دہلی، 13 دسمبر، ارنا - بھارتی پروفیسر اور ماہر امور دفاعی نے علاقائی خوشحالی کے حوالے سے ایران کی چابہار بندرگاہ کی اہم پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے وسطی ایشیائی علاقے کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس چابہار منصوبے میں حصہ لیں.

یہ بات پروفیسر 'پی. استوبدن' نے بھارتی انسٹی ٹیوٹ برای تجزیے اور دفاعی اسٹڈیز کی ویب سائیٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ یقینا ایران بھارت کے لئے ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ایران کے ذریعے بھارت کی وسطی ایشیائی کے خطے اور روس تک رسائی آسان ہوجاتی ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران نے بھارت کو موثر اور آسان راہداری کے راستے فراہم کئے کیونکہ ایران خطے میں باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا حامی ہے.

بھارتی پروفیسر نے مزید کہا کہ چابہادر بندرگاہ کی پوزیشن بھارت کے نہایت اہمیت کی حامل ہے، چابہار بندرگاہ انڈین اوشین کے قریب اور بندرعباس کے برعکس چابہار سواحل کی گہرائی زیادہ ہے.

انہوں نے چابہار بندرگاہ میں قائم شہید کلانتری اور شہید بہشتی ٹرمینلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی ٹرمینل میں سالانہ 21 لاکھ ٹن مصنوعات کی منتقلی ہوتی ہیں جبکہ شہید بہشتری ٹرمینل کے باضابطہ افتتاح سے اس بندرگاہ میں سالانہ 10 ملین ٹن مصنوعات کی منتقلی یقینی بن جائے گی.

یاد رہے کہ بھارت نے ایران کی اہم بندر گاہ چاہ بہار کے راستے افغانستان کو گندم کی پہلی کھیپ روانہ کر دی ہے.

اس سے پہلے بھارت کی خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک بیان میں کہا کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بھارت اور افغانستان کے ایک مشترک تجارتی راستہ قائم ہونے سے تمام خطے میں بغیر کسی رکاوٹ کے تجارت ممکن ہو سکے گی.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@