القدس پر ٹرمپ کا فیصلہ، خطے میں امریکی مایوسی کی علامت ہے: ایرانی وزیر دفاع

تہران، 12 دسمبر، ارنا - ایرانی وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالخلافہ تسیلم کرنے کا فیصلہ خطے میں امریکہ کی مایوسی اور کمزوری کی علامت ہے.

يہ بات بريگيڈيئر جنرل 'امير حاتمي' نے آج بروز منگل اپنے ترک ہم منصب 'نورالدين جانيکلي' کے ساتھ ايک ٹيلي فونک رابطے ميں گفتگو کرتے ہوئے کہي.

اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے درميان ديرينہ تعلقات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سے اب تک بعض علاقائي اور عالمي طاقتوں نے اسلامي جمہوريہ ايران اور ترکي کے درميان اچھے تعلقات کو خراب کرنے کي کئي سازشيں کيں مگر اللہ تعالي کي مدد کے ساتھ ناکام ہوگئي ہيں.

جنرل حاتمي نے داعش دہشتگردوں کي شکست پر ترک قوم اور حکومت کو مبارکباد ديتے ہوئے کہا کہ اس بڑي کاميابي اسلامي جمہوريہ ايران، ترکي اور روس کے درميان باہمي تعاون کي واضح مثال ہے جو امريکہ اور ناجائز صہيوني حکومت کي کمزوري کا باعث بني ہے.

انہوں نے مزيد کہا کہ جب امريکہ اور ناجائز صہيوني رياست نے عراق، شام، عراقي کردستان اور لبناني وزير خارجہ کے مجبوري استعفي کے واقعات ميں ناکام ہونے کے بعد بيت المقدس کو صہيوني دارالخلافہ تسليم کرنے کي شيطاني سازش کي.

انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ القدس شريف پر امريکي صدر کي جاہلانہ پاليسي جابر صہيوني رياست کے اقتدار ميں اضافہ ہونے کا باعث ہوجائے گا اور ہم يقين رکھتے ہيں کہ اسلامي امت کے درميان تنازعات اور بعض عرب ممالک اور اسرائيل کے درميان باہمي تعلقات اس شيطاني سازش کي اصلي وجہ ہيں.

ايراني وزير دفاع نے يمن ميں ہونے والے جرائم کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم يمني عوام کے قتل عام ايک عظيم انساني تباہي ہے اور عالمي برادري اور اسلامي ممالک کو ايسے جرائم کي روک تھام کے لئے بھرپور کوششيں کرنا چاہيئے.

انہوں نے اسلامي جمہوريہ ايران اور ترکي کے درميان فوجي تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ترکي کے ساتھ دفاعي، سائنسي اور تحقيقي تجربات کي منتقلي کے حوالے سے باہمي تعاون کي ترقي کے لئے تيار ہيں.

انہوں نے القدس شريف کے حوالے سے اسلامي تعاون تنظيم (OIC) کے رکن ممالک کے سربراہوں کے غيرمعمولي اجلاس کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ ايران اور ترکي کے صدور کي قيادت کے ساتھ اس اجلاس کا انعقاد ہوجائے گا اور ہم اس کي حمايت کر رہے ہيں.

جانيکلي نے اس بات پر زور ديا کہ کوئي طاقت دونوں ممالک کے درميان کٹيرالجہتي تعلقات کو تباہ نہيں کرسکتي ہے.

انہوں نے کہا کہ بيت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کا بيوقوفانہ فيصلہ ايک بڑي غلطي ہے جو تمام اسلامي دنيا اس کے خلاف نعرہ بلند کر رہے ہيں.

خيال رہے کہ عالمي مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بيت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسليم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امريکي سفارت خانے کو تل ابيب سے بيت المقدس منتقل کرنے کي ہدايات جاري کي ہيں.

واضح رہے کہ القدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور فلسطيني سرزمين سے الگ نہ ہونے والا حصہ ہے جس کو مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کے درميان اہم حيثيت حاصل ہے.

يقينا قدس شريف اسلامي ملک فلسطين کا حقيقي اور اصل دارالخلافہ ہے اور امريکہ منفي اقدامات اور بحرانوں سے اس حقيقت کو نظرانداز نہيں کرسکتا.

9393*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@