ایرانی پارلیمنٹ میں ٹرمپ مخالف قرارداد منظور، اسلامی ممالک صہیونیوں کیساتھ تعلقات منقطع کریں

تہران، 12 دسمبر، ارنا - ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اراکین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیت المقدس کے حوالے سے فیصلے کی مخالفت میں قرارداد پاس کرتے ہوئے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کریں.

ایرانی پارلیمنٹ کے 235 اراکین نے منگل کے روز امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلی.

پارلیمنٹ بورڈ کے ممبر محمد حسین فرہنگی نے اراکین پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کو پڑھ کر سنایا.

اس قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی ممالک فوری طور پر امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کے تجارتی سرگرمیوں کو کم ترین سطح پر لائیں.

ایرانی اراکین مجلس نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے امریکی صدر نے اپنے حالیہ فیصلے میں بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت کے طور پر اعلان کردیا ہے.

اس قرارداد میں کہا گیا کہ بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی(رح) کے تاریخی انکشافات کے مطابق جب تک صہیونیوں کا قبضہ باقی ہو تب تک خطے میں بھی بدامنی اور عدم استحکام کا سلسلہ جاری رہے گا.

اس قرارداد میں سپریم لیڈر کے حالیہ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی اراکین مجلس نے مزید کہا کہ امریکہ اور صہیونیوں کے ایسے فیصلے ان کی بے بسی اور لاچاری کی علامت ہے مگر امریکہ اور قابض صہیونی حکمران جان لیں کہ اسلامی ممالک اس شرمناک اقدام پر خاموش نہیں بیٹھیں گے.

قرارداد کے مطابق، یقینی طور پر ایرانی قوم اور حکومت ہمیشہ اسلامی انقلاب کے مقاصد پر عمل کرتے ہوئے قابض صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہے.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.

9410*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@