القدس پر امریکی رویے کا نتیجہ فلسطینی فریقین کا مضبوط اتحاد ہے: اعلی ایرانی سفارتکار

تہران، 12 دسمبر، ارنا - ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ القدس اور خطے کے حوالے سے امریکی رویے کا نتیجہ بدامنی کے پیھلاو اور فلسطینیوں گروہوں کے اتحاد کی مضبوطی ہے.

یہ بات 'حسین امیرعبداللہیان' نے منگل کے روز ایران تعینات سویٹزرلینڈ کے سفیر 'مارکس لینٹر' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع میں انہوں نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے لیے امریکی صدر کے حالیہ من گھرٹ بیانات کے خلاف سویٹزرلینڈ کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات سمیت سفارتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید بڑہانے کی ضرورت پر زور دیا.

امیرعبداللہیاں نے یمن اور بحرین کے بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران، یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کی حمایت کر رہا ہے اور ہمیں یمن میں انسانی بنیاد پر امدادیں بھیجنے کے عمل کو تیز کرنا چاہیے.

انہوں نے کہا کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کے فوجی اور سیکورٹی کے نقطہ نظر کے ساتھ قوم اور حکومت کے درمیان بڑا فاصلہ پیدا ہو چکا ہے تو امید ہے کہ سویٹزرلینڈ، انسانی حقوق کے حامی ملک کی حیثیت سے اس حوالے سے اپنے تعمیری اور موثر کردار ادا کرے گا.

اس موقع میں سویٹزرلینڈ کے سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنا ملک ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تیار ہے.

مارکوس لائنر نے ایران کو خطے کے سب سے مستحکم اور پر امن ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی توسیع کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کی پارلیمنٹیں اس حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں.

انہوں نے یمنی بحران کے سیاسی حل کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطی سمیت یمن کے مسائل کا خاتمے کے لیے سیاسی طریقہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.

واضح رہے کہ القدس شریف مسلمانوں کا پہلا قبلہ گاہ اور فلسطینی سرزمین سے الگ نہ ہونے والا حصہ ہے جس کو مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کے درمیان اہم حیثیت حاصل ہے.

یقینا قدس شریف اسلامی ملک فلسطین کا حقیقی اور اصل دارالخلافہ ہے اور امریکہ منفی اقدامات اور بحرانوں سے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا.

9410*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@