ٹرمپ کی تنہائی بڑھ گئی، اسرائیل کا خاتمہ شروع ہوگیا: نصراللہ

بیروت، 12 دسمبر، ارنا - لبنان کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اگر وہ القدس کو صہیونیوں کا دارالخلافہ تسلیم کرلے گا تو دنیا اس کے ساتھ دے گی مگر اس فیصلے کی دنیا بھر میں شدید مخالفت نے یہ بات ثبات کردی ہے کہ کہ امریکی صدر مزید تنہائی کا شکار ہوگیا ہے.

ان خیالات کا اظہار 'سید حسن نصراللہ' نے لبنان کے جنوبی علاقے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے خلاف احتجاجی مظاہرے کے موقع پر ویڈیو لینک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا.

انہوں ںے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس کے فیصلے سے ناجائز صہیونی ریاست کے خاتمے کے سلسلے آغاز ہوگیا ہے.

انہوں ںے ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز فیصلے کے خلاف زبردست اور مضبوط مؤقف اپنانے پر فلسطینی رہنماوں اور گروہوں کو خراج تحسین پیش کیا.

سید نصراللہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لبنانی عوام فلسطین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہم القلدس اور اسلام کے مقدسات مقامات کا دفاع کریں گے.

انہوں نے بحرین سے ایک وفد کے حالیہ مقبوضہ فلسطین کے دورے کے حوالے سے بتایا کہ یہ وفد بحرینی عوام کا نمائندہ نہ تنھا بلکہ اس نے ایک جابر حکومت کی نمائندگی کی جس نے نام نہاد مفاہمت اور امن کے پیغام لے کر گیا تھا.

حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ بحرینی عوام نے القدس کے ساتھ یکجہتی کے لئے مظاہرے کئے مگر بحرینی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کردی.

انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکہ اور صہیونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی فلسطینی انتفاضہ کی ضرورت ہے.

خیال رہے کہ عالمی مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں.

واضح رہے کہ القدس شریف مسلمانوں کا پہلا قبلہ گاہ اور فلسطینی سرزمین سے الگ نہ ہونے والا حصہ ہے جس کو مسلمانوں اور پورے عالم اسلام کے درمیان اہم حیثیت حاصل ہے.

یقینا قدس شریف اسلامی ملک فلسطین کا حقیقی اور اصل دارالخلافہ ہے اور امریکہ منفی اقدامات اور بحرانوں سے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا.

274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@